Killing of a sensation is sin, and vice versa.
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۱، صفحہ ۳۹
اس موضوع پر ہمارے ہندو بھائی جو پر تشدد تحریک چلا رہے ہیں، وہ واضح طور پر رواداری، اہمسا اور ہر ایک کے احترام کے خلاف ہے جس کو ہندودازم کا بنیادی اصول بتلایا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں اس تحریک کو کبھی اینٹی ہندو لہر کا نام دیا جائے گانہ کہ ہندو لہر کا۔ عقیدہ یا تاریخ یہ حضرات کہتے ہیں کہ اجودھیا کی بابری مسجد عین رام جنم بھومی کے مقام پر بنی ہے، اس لئے، ہم مسجد کو ڈھاکر دوبارہ وہاں رام مندر بنائیں گے۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ آپ کا دعویٰ تاریخ سے ثابت نہیں ہوتا۔ مگر وہ اس پر دھیان دینے کے لئے تیار نہیں۔
مثال کے طور پر تاریخ بتاتی ہے کہ بابری مسجد ۱۵۲۸ میں بنائی گئی۔ اس کے تقریباً چالیس سال بعد تلسی داس رو فات ، بنارس (۱۶۲۳) اجودھیا جاتے ہیں۔ وہ وہاں کے مندروں کو دیکھتے ہیں اور رام کی زندگی پر ادودھی زبان میں اپنی کتاب رام چرت مانس (۷۶-۴۷-۱۵) لکھتے ہیں۔ اس تفصیلی کتاب میں رام کے بارے میں ہر چیز موجود ہے۔ مگر اس میں رام جنم بھومی پر بنے ہوئے مندر کو توڑ کر مسجد بنانے کا کوئی ذکر نہیں۔
حالانکہ یہ شہنشاہ اکبر (۱۶۰۵-۱۵۲۲) کا زمانہ تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، اکبر ایک ہندو نواز بادشاہ تھا۔ اس کی ملکہ بھی ایک ہندو خاتون تھی۔ اگر مندر توڑنے کا واقعہ صحیح ہوتا تو اکبر جیسے بادشاہ کے زمانہ میں تلسی داس اس کی بے خوف و خطر نشاندہی کرتے کہ بابر کے حاکم میر باقی نے رام مندر کو توڑ کر وہاں مسجد بنادی تھی۔ تلسی داس اگر اس کا اعلان کرتے تو اس کے بعد یا تو فوراً شاہی فرمان نافذ ہوتا کہ اس عمارت کو ہندوؤں کے حوالہ کر دیا جائے ۔ یا کم از کم تلسی داس کی کتاب میں اس کا ریکارڈ ہمارے پڑھنے کے لئے موجود رہتا۔
اس طرح کے حقائق جب پیش کئے جاتے ہیں تو مذکورہ حضرات کہتے ہیں کہ یہ ہمارے عقیدہ کا مسئلہ ہے۔ اس معاملے میں ہم تاریخ کی کوئی بات نہیں سنیں گے اور نہ عدالت کا فیصلہ مانیں گے ۔ کیونکہ مذہبی عقیدہ کا تعلق تاریخ اور عدالت سے نہیں ہوتا۔
یہ جواب سراسر غیر معقول ہے۔ یہ صحیح ہے کہ مذہبی عقیدہ کا تعلق تاریخ یا عدالت سے نہیں ہوتا۔ مگر "مندر کو توڑ کر مسجد بنانے" کا مسئلہ مکمل طور پر ایک تاریخی مسئلہ ہے نہ کہ عقیدہ کا مسئلہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1991 All issues