Killing of a sensation is sin, and vice versa.
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۱، صفحہ ۴۰
اگر یہ کہا جائے کہ ” رام وششنو کے اوتار تھے “ تو یہ بلاشبہ عقیدہ کا ایک مسئلہ ہوگا۔ اس کو تاریخ اور قانون کے دائرہ میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔ مگر ” فلاں مسجد مندر کو توڑ کر بنائی گئی “ یہ بلاشبہ تاریخ کا مسئلہ ہے اور بصورت نزاع یقیناً اس کو تاریخ اور قانون کے دائرہ میں لا کر فیصلہ کیا جانا چاہئے۔ جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ ہندو سماج کی کوئی خدمت انجام نہیں دے رہے ہیں۔ وہ ہندو سماج کو اس کی اعلیٰ روایات سے ہٹا رہے ہیں۔ سوامی وویکانند کی امریکہ کے پارلیمنٹ آف ریلیجز میں تقریر (۱۸۹۳) کے بعد سے اب تک ہزاروں ہندو پیشواؤں کو مغربی ملکوں میں زبردست استقبال ملتا رہا ہے۔ اس کی وجہ ہندو دھرم کی رواداری اور عدم تشدد کی روایات ہیں۔ اب کیا ہندوؤں کے انتہا پسند رہنما تاریخ کے اس پورے باب کو بند کر دینا چاہتے ہیں۔ وہ ہندو دھرم کو اس کی اس کشش سے محروم کر دینا چاہتے ہیں جس نے مشرق و مغرب کے بہت سے لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کیا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1991 All issues