Al-Risala · September 1991 · page 4

عظمتِ صحابه

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۴

عظمتِ صحابه

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو قرآن میں خیر امت (آل عمران: ۱۱۰) کہا گیا ہے۔ انبیاء و رسل کے بعد وہ تمام انسانوں میں سب سے بہتر گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں (هم خير اجيال البشرية خلا الانبياء والمرسلين)

صحابہ یا اصحاب رسول کی یہ غیر معمولی عظمت کیوں ہے۔ یہ کوئی پراسرار کرامت کی بات نہیں یہ ایک معلوم اور ثابت شدہ حقیقت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے قول و عمل سے تاریخ میں ایسی مثال قائم کی جیسی مثال کبھی کسی انسانی گروہ نے قائم نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ساری انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ اعلیٰ اور افضل گروہ قرار پائے۔

ان کا سب سے پہلا اور انوکھا کارنامہ وہ ہے جس کو معرفتِ حق کہا جا سکتا ہے۔ لوگ سچائی کے مظاہر کو جانتے ہیں، صحابہ نے سچائی کو حقیقت کے اعتبار سے جانا۔ لوگ مانی ہوئی سچائی کو مانتے ہیں، انھوں نے سچائی کو خود اپنی بصیرت سے دریافت کیا۔ لوگ اس سچائی کی قدر دانی کرتے ہیں جو گنبد کی سطح پر نظر آتی ہو، انھوں نے اس سچائی کی قدر کی جو ابھی صرف مجرد روپ میں تھی۔ لوگ اس سچائی کے چیمپئن بنتے ہیں جس کے ساتھ مادی وزن اکٹھا ہو گیا ہو، انھوں نے اپنے آپ کو اس سچائی کے لیے وقف کیا جو ہر قسم کے مادی وزن سے یکسر خالی تھی۔ لوگ اس سچائی کی علم برداری کرتے ہیں جس کی پشت پر ایک با عظمت تاریخ بن چکی ہو، انھوں نے ایک بے تاریخ سچائی کا ساتھ دیا اور ہر قسم کی نفسیاتی اور جسمانی قربانی دے کر خود اس کی ایک شاندار تاریخ بنائی۔ اصحاب رسول تمام انسانی نسلوں کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ وہ قیامت تک پیدا ہونے والے اپنے بندوں کے لیے ایک نمونہ قائم کرے۔ اصحاب رسول نے اپنی غیر معمولی قربانیوں کے ذریعہ یہ درجہ حاصل کیا کہ وہ تمام انسانیت کے لیے ابدی نمونہ حیات قرار پائے۔

یہ وہ لوگ ہیں جو زندگی کے ہر مرحلہ میں حق پر ثابت قدم رہے۔ جنہوں نے زندگی کے ہر شعبہ میں وہی روش اختیار کی جو انصاف اور صداقت پر مبنی تھی۔ وہ آزاد ہوتے ہوئے اصولوں

‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues

Printed page