Al-Risala · September 1991 · page 5

عظمتِ صحابه

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۵

بے راہ روی کے مواقع موجود تھے مگر وہ بے راہ رو نہیں ہوئے۔ انہوں نے ہر معاملہ میں اپنے آپ کو راست روی کے اعلیٰ معیار پر پوری طرح قائم رکھا۔

پوری انسانی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی پیغمبر کو اس کے ہم عصر لوگوں نے پہچانا ہو، پہلے پیغمبروں کو افراد ملے مگر انہیں جماعتیں نہ مل سکیں۔ اصحاب رسول کا یہ انسانی کارنامہ ہے کہ انہوں نے جماعت کی سطح پر اپنے ہم عصر پیغمبر کو پہچانا اور بڑی تعداد میں اس کے مشن کو اپنا کر اس کے لیے اپنی زندگی وقف کردی۔ ان کے ساتھ بار بار وہ واقعات پیش آئے جن کو عذر بنا کر لوگ بدک جاتے ہیں اور ساتھ چھوڑ دیتے ہیں، مگر انہوں نے کسی عذر کو عذر نہیں بنایا، وہ ہر قسم کی ناخوش گوار باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے آپ کی حمایت کرتے رہے، یہاں تک کہ اسی حال میں اس دنیا سے چلے گئے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر آخر الزماں کی حیثیت سے مبعوث کیا تھا۔ یہ ساوہ طور پر صرف تقرر کا معاملہ نہ تھا، بلکہ ایک مشکل ترین منصوبہ کو بروئے کار لانے کا معاملہ تھا۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ ایک وسیع الاثر انقلاب برپا کر کے وہ تاریخی اسباب ظہور میں لائے جائیں جس کے بعد آپ کی نبوت ہمیشہ کے لیے ایک مسلم نبوت کی حیثیت اختیار کرلے۔ آپ کا دین ناقابل شکست حد تک ایک محفوظ دین بن جائے ۔ آپ کی ذات اور آپ کا کارنامہ تاریخ میں اس طرح ثبت ہو جائے کہ کوئی مٹانے والا اس کو مٹانے میں کبھی کامیاب نہ ہو سکے۔

یہ منصوبہ اسباب کی دنیا میں اور انسانی آزادی کے ماحول میں مکمل کرنا تھا۔ اس پہلو نے اس منصوبہ کو آخری حد تک ایک انتہائی مشکل منصوبہ بنا دیا۔ اصحاب رسول نے اپنے آپ کو پوری طرح اس منصوبہ الہی میں شامل کیا۔ اس کی خاطر انہوں نے اپنی جان کو جان اور اپنے مال کو مال نہیں سمجھا۔ اس کے لیے انہوں نے اپنی انا کو کچلا۔ اپنے تاج کو اپنے پیروں کے نیچے روندا۔ اپنی محبوب چیزوں کو چھوڑ کر دہ اس کی طرف بڑھے۔ انہوں نے نہ ماننے والی بات کو مانا۔ انہوں نے ناقابل برداشت کو برداشت کیا۔ پیغمبر کو پانے کے لیے انہوں نے اپنا سب کچھ کھو دیا کسی بھی شرط اور کسی بھی تحفظ کے بغیر وہ آپ کے شریک کار بن گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصحاب رسول انوکھا تاریخ کے ایک منفرد گروہ تھے۔ اصحاب رسول کی عظمت

‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues

Printed page