Al-Risala · September 1991 · page 6

فطری اوصاف

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۶

فطری اوصاف

ابتدائی دور کے سماج (primitive society) کے بارے میں اٹھارویں اور انیسویں صدی میں جو مطالعہ کیا گیا، اس میں یہ مان لیا گیا تھا کہ یہ لوگ ذہنی اور اخلاقی اعتبار سے کمتر (mentally and morally inferior) تھے۔ مگر بیسویں صدی میں علم الانسان (Anthropology) کے علماء نے جو تحقیقات کی ہیں، اس کے بعد صورت حال بالکل بدل گئی ہے۔ اب معلوم ہوا ہے کہ ابتدائی دور کا انسان نہایت اعلیٰ انسان تھا۔ تہذیبی ساز و سامان میں بظاہر وہ پیچھے تھا۔ مگر انسانی اوصاف کے اعتبار سے وہ معیاری انسان کی حیثیت رکھتا تھا۔ (382/VII)

اس جدید تحقیق کے بعد سماجیات میں ایک نیا شعبہ فن وجود میں آیا ہے جس کو پرمیٹیوزم (Primitivism) کہا جاتا ہے۔ اس فن میں ابتدائی دور کے انسان کا مطالعہ اس اعتبار سے کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی صفات کے اعتبار سے آئیڈیل انسان تھا اور آج کے انسان کو اسی کی پیروی کرنا چاہیے (212/VIII)

یہ نظریہ اسلام کے تصور تاریخ کے عین مطابق ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی دور کے لوگ امت واحدہ تھے (البقرہ ۲۱۳) یعنی وہ اس واحد صحیح راستہ پر تھے جو خدا نے ان کے لیے انسان اول آدمؑ کی پیدائش کے وقت مقرر کر دیا تھا۔ ایک عرصہ کے بعد وہ اس راستہ سے ہٹ گئے۔ ان میں بگاڑ اور اختلاف پیدا ہو گیا۔ جب انسانی آبادی پر بگاڑ کا دور شروع ہوا تو خدا نے پیغمبر بھیجنے شروع کیے۔ یہاں تک کہ آخری پیغمبر محمد صلّی اللہ علیہ وسلّم کو مبعوث فرمایا۔ ابتدائی دور کا انسان صحیح کیوں تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فطرت پر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر جو فطرت بنائی ہے، وہ انتہائی معیاری صفات کی حامل ہے۔ جب تک آدمی اپنی اس پیدائشی فطرت پر تھا، وہ اعلیٰ انسانی صفات سے متصف تھا، اس کے بعد تمدن کا دور شروع ہوا۔ اس مصنوعی تمدن نے انسان کو بگاڑنا شروع کیا۔ اب انسان کی فطرت دب گئی اور اس پر مصنوعی تمدنی صفات غالب آگئیں ۔

فطرت کا یہی بگاڑ ہے جس کا نتیجہ یہ تھا کہ بعد کے دور میں آنے والے پیغمبروں کا انکار کیا جاتا رہا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues

Printed page