خير امت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۸
خير امت
كنتم خير امة اخرجت للناس تم بہترین گروہ ہو جس کو لوگوں کے واسطے نکالا گیا تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنكر ہے تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے وتؤمنون بالله (آل عمران (۱۱۰) ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
اس آیت میں خیر امت (بہترین گروہ) سے مراد صحابہ کا گر وہ ہے۔ "اخرجت کے معنی اظہر ت یا اوجدت کے ہیں۔ یعنی اس گروہ کو خصوصی اہتمام کے ساتھ نکال کر میدان میں لایا گیا ہے۔ یہ اس صحرائی منصوبے کی طرف اشارہ ہے جس کے ذریعہ سے صحابہ کی وہ انوکھی جماعت حاصل کی گئی جس کو پروفیسر ڈی ایس مارگولیتھ نے ہیروؤں کی ایک قوم (a nation of heroes) کا نام دیا ہے۔
اصحاب رسول کون لوگ تھے۔ یہ بنواسماعیل کی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ اس نسل کے جد اعلیٰ اسماعیل بن ابراہیم ہیں۔ چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم نے اپنے چھوٹے بچہ اسماعیل اور ان کی ماں ہاجرہ کو عراق سے نکالا اور ان کو لے جا کر حجاز (عرب) کے صحرا میں چھوڑ دیا۔ اس وقت یہ علاقہ ایک بے آب و گیاہ علاقہ تھا۔ وہاں کوئی انسانی آبادی نہ تھی۔ یہ مکمل طور پر فطرت کی ایک دنیا تھی۔ صحرا اور پہاڑ، زمین اور آسمان، سورج اور چاند، بس اس قسم کی چیزیں تھیں جن کے درمیان کسی شخص کو اپنے رات اور دن کو گزارنا تھا۔ یہاں شہریت اور تمدن کا کوئی نشان نہ تھا۔ چاروں طرف صرف فطرت کی پر ہیبت نشانیاں پھیلی ہوئی نظر آتی تھیں۔ مزید یہ کہ یہاں آرام اور عیش نام کی کوئی چیز موجود نہ تھی۔ یہاں زندگی سراپا چیلنج تھی۔ آدمی مجبور تھا کہ مسلسل چیلنج کا مقابلہ کرتے ہوئے وہ اس پر مشقت ماحول میں زندہ رہنے کی کوشش کرے۔
تمدن کی خرابیوں سے دور اس سادہ ماحول میں توالد و تناسل کے ذریعہ ایک نسل بننا شروع ہوئی ۔ یہ ایسے لوگ تھے جن کے حالات نے انہیں انسانی تکلفات سے دور کر رکھا تھا۔ وہ مصنوعی اخلاق سے بالکل نا آشنا تھے۔ وہ ایک ہی رہنمائی کو جانتے تھے، اور وہ فطرت کی رہنمائی تھی۔ فطرت بلاشبہ انتہائی معیاری معلم ہے، اور صحرا کی یہ نسل اسی معیاری معلم کے تحت بن کر تیار ہوئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues