Al-Risala · September 1991 · page 9

خير امت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۹

آل عمران کی مذکورہ آیت میں خیر امت کی دو خاص صفتیں بتائی ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ معروف کا حکم دینے والے اور منکر سے روکنے والے ہیں۔ یعنی خلافِ حق بات کو برداشت نہ کرنا اور حق سے کم کسی چیز پر راضی نہ ہونا، یہ ان کا مستقل مزاج ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو اپنے گرد و پیش سے غیر متعلق رہ کر زندگی گزارتے ہیں یا جن کا رویہ ذاتی مصالح کے تحت متعین ہوتا ہے۔ بلکہ وہ کامل طور پر حق پسند ہیں۔ حق اور ناحق کی بحث میں نہ پڑنا، یا ناحق سے سمجھوتہ کر کے زندہ رہنا ان کے لیے ممکن نہیں ۔ ان کی دوسری صفت یہ بتائی گئی کہ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ صاحب معرفت لوگ ہیں۔ وہ ظواہر میں گم رہنے والے لوگ نہیں ہیں۔ انھوں نے حقیقتِ اعلیٰ کو دریافت کیا ہے۔ ان کا شعور پائے ہوئے انسانوں کا شعور ہے۔ انھوں نے مخلوقات کی دنیا کے پیچھے اس کے خالق کا جلوہ دیکھ لیا ہے۔

یہ دونوں صفتیں بے حد نادر صفتیں ہیں۔ حق پسند اور صاحبِ معرفت وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو بے حد سنجیدہ ہوں۔ جو اصول کی بنیاد پر رائے قائم کرتے ہوں نہ کہ خواہش کی بنیاد پر۔ جو حقائقِ مادی کے بجائے حقائقِ معنوی کو اپنی توجہات کا محور بنائے ہوئے ہوں۔ جو مفاد کے بجائے صداقت کے لیے جینے والے ہوں۔ جو دباؤ کے بغیر اپنے آزادانہ فیصلہ کے تحت صحیح رویہ اختیار کر لیں۔ جو دلیل سے چپ ہو جائیں ، بغیر اس کے کہ ان کو چپ کرنے کے لیے کوئی طاقت استعمال کی گئی ہو۔ اس دنیا میں سب سے بڑا قولِ حقیقت واقعہ کا اعتراف ہے، اور اس دنیا میں سب سے بڑا عملِ حقیقتِ واقعہ سے مطابقت ۔ اور اصحابِ رسول بلاشبہ ان نادر انسانوں میں سے تھے جو اس معیارِ انسانیت پر آخری حد تک پورے اترے۔

یہ وہ انسان کامل ہے جس کی انسانیت پوری طرح محفوظ ہوتی ہے۔ جو اپنی تخلیقی فطرت پر قائم رہتا ہے ۔ یہی وہ زندہ فطرت والا انسان ہے جو عرب کے صحرائی ماحول میں ڈھائی ہزار سالہ عمل کے ذریعہ تیار کیا گیا۔ اور صحابہ کا گروہ وہ منتخب انسانی گروہ ہے جس کو اس مخصوص انسانی نسل سے چن کر نکالا گیا ۔

صحابہ وہ لوگ تھے جو دوسروں کی خیر خواہی کے لیے جئے۔ جن کی ساری کوشش یہ تھی کہ وہ لوگوں کو جہنم سے بچا کر جنت میں پہنچا دیں۔ اسی لیے وہ خیر امت قرار پائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues

Printed page