Al-Risala · September 1991 · page 15

اعتراف حق

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۱۵

وسيجزي الله الشاکرین (آل عمران (۱۴۴) اور اللہ شکر گزاروں کو بدلہ دے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ جب ابو بکر نے یہ آیت پڑھی تو ایسا محسوس ہوا جیسے لوگ یہ جانتے ہی نہ تھے کہ قرآن میں یہ آیت بھی نازل ہوئی ہے۔ اب ابوبکرؓ سے اس آیت کو سن کر لوگوں نے اس کو اخذ کر لیا۔ اس کے بعد یہ آیت تمام لوگوں کی زبان پر تھی۔

راوی کہتے ہیں کہ عمر نے کہا کہ خدا کی قسم ، جب میں نے ابو بکر کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا تو میں دہشت زدہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ میں زمین پر گر پڑا۔ اور میرے دونوں پاؤں میرا بوجھ نہ اٹھا سکے۔ اور میں نے جان لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی (سيرة ابن ہشام ۴/ ۳۵-۳۴) عمر فاروق اس وقت اتنے جوش میں تھے کہ ابو بکر صدیق کی باتوں سے چپ نہیں ہو رہے تھے۔ اس کے بعد جب انھوں نے قرآن کی ایک آیت پڑھ دی تو اچانک وہ ڈھ پڑے۔ حالانکہ ابو بکر صدیق پہلے بھی کچھ الفاظ بول رہے تھے، اور اب بھی انھوں نے کچھ الفاظ ہی اپنی زبان سے نکالے تھے۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ پہلے الفاظ انسان کے الفاظ تھے، اور دوسرے الفاظ خدا کے الفاظ ۔ اس سے اصحاب رسول کی ایک نہایت اہم صفت سامنے آتی ہے ۔ وہ یہ کہ اصحاب رسول اللہ کا حکم آتے ہی اس کے آگے ڈھ پڑنے والے لوگ تھے ۔ عام انسان قیامت میں رب العالمین کو دیکھ کر اس کے آگے ڈھ پڑے گا۔ اصحاب رسول وہ لوگ تھے جو اسی دنیا میں رب العالمین کو دیکھے بغیر اس کے آگے ڈھ پڑے۔ منکرین خدا پر جو کچھ موت کے بعد بیتنے والا ہے ، وہ اصحاب رسول پر موت سے پہلے کی زندگی میں بیت گیا ۔ دوسرے لوگ جس چیز کو مجبوری کے تحت قبول کریں گے ، اس کو اصحاب رسول نے خود اپنے آزادانہ فیصلہ کے تحت اختیار کر لیا۔

انسان کو موجودہ دنیا میں اسی خاص امتحان کے لیے رکھا گیا ہے۔ یہاں انسان کو آزادی دی گئی ہے۔ مگر یہ آزادی برائے آزمائش ہے نہ کہ برائے انعام - اللہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون شخص ہے جو آزادی پا کر سرکش ہو جاتا ہے ، اور کون ہے جو آزادی پانے کے با وجود اللہ کے آگے جھک جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اسی خدائی مطلوب کا عملی نمونہ تھے۔ انھوں نے خدا کے حکم کو عملاً اختیار کر کے اس بات کا مظاہرہ کیا کہ آدمی کو کیسا بننا چاہیے ، اور اپنی آزادی کو اسے کس طرح استعمال کرنا چاہیے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues

Printed page