Al-Risala · September 1991 · page 16

بے نفسی

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۱۶

بے نفسی

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اگر کسی مسلمان کی موت کا وقت آجائے اور اس کو اپنے مال کے بارے میں وصیت کرنا ہے تو اس کو چاہیے کہ دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنا کر دہ اپنی وصیت کرے۔ اس سلسلہ میں احکام بتاتے ہوئے فرمایا ہے کہ بعد کو گواہی دینے کے وقت اگر یہ بات علم میں آئے کہ ان دونوں گواہوں نے گواہی دینے میں کوئی حق تلفی کی ہے تو ان کی جگہ دوسرے دو شخص وراثت کے حق داروں میں سے کھڑے ہوں، جو میت سے زیادہ قریبی تعلق رکھتے ہوں۔ یہ دوسرے دونوں آدمی قسم کھا کر کہیں کہ ہماری گواہی ان دونوں اولی بالشہادۃ گواہوں کی گواہی سے زیادہ برحق ہے ( المائدہ ۱۰۷)۔ اس آیت کا ایک ٹکڑا یہ ہے : مِنْ اَلَّذِیْنَ اِسْتَحَقَّ عَلَیْھِمُ الاَوْلِیَان (ان میں سے جن کا حق دبا ہے جو سب سے قریب ہوں میت کے) اس آیت کے ایک لفظ (الاولیان) کی قرات میں اختلاف ہے۔ اَلْحسُن نے اس کو الاؤلان پڑھاہے۔ اور ابن سیرین نے اس کو الاؤلین پڑھاہے۔ اس سلسلہ میں ایک روایت یہ ہے :

عن ابی مجلز ان أبی بن کعب قرأ ابو مجلز سے روایت ہے کہ ابی بن کعب نے یہ آیت (من الذين استحق عليهم الاولیان) پڑھی (من الذین استحق عليهم الاولیان) پس عمر نے ان قال عمر عنه کذبَتْ ۔ فقال سے کہا کہ تم نے جھوٹ کہا۔ انہوں نے کہا کہ تم خود زیادہ انتَ اکذب ۔ فقال رجل۔ تکذّب جھوٹے ہو۔ یہ سن کر ایک شخص نے کہا کہ تم امیر المومنین امیر المومنين۔ قال : انا اشد تعظیماً کو جھوٹا کہتے ہو۔ انھوں نے کہا کہ میں تم سے زیادہ لحق اميرالمومنين منك۔ ولكن امیر المومنین کے حق کی تعظیم کرتا ہوں لیکن میں نے کذبتہ فی تصدیق کتاب اللہ، ان کو اللہ کی کتاب کی تصدیق کے معاملہ میں جھٹلایا ولم اصدق امیر المومنین ہے۔ میں نے کتاب اللہ کی تکذیب کے معاملہ میں في تکذیب کتاب اللہ ۔ فقال عمر امیر المومنین کی تصدیق نہیں کی۔ عمر نے یہ سن کر کہا کہ صدق (حياة الصحابة ۲ / ۴۷۴-۴۷۵) انھوں نے سچ کہا۔

اس واقعہ میں ایک صحابی نے دوسرے صحابی پر سخت تنقید کی جو کہ وقت کا سربراہ سلطنت

‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues

Printed page