Al-Risala · September 1991 · page 24

میں کو حذف کرنا

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۴

میں کو حذف کرنا

غزوہ بدر ۲ھ میں پیش آیا۔ اچانک صورت حال کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین مکہ کے مقابلہ کے لیے نکلنا پڑا۔ یہ بڑا نازک لمحہ تھا۔ کیونکہ اس مقابلہ کے لیے مہاجرین کی تعداد ناکافی تھی، انصار کا معاملہ یہ تھا کہ اپنی بیعت کی روسے وہ صرف مدینہ کے اندر آپ کی حمایت کے پابند تھے۔ مدینہ سے باہر نکل کر دشمنوں سے مقابلہ کرنا ان کے واجبات بیعت میں شامل نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا کہ اے لوگو، مجھے مشورہ دو۔ اس کے جواب میں مہاجرین میں سے کچھ لوگوں نے اٹھ کر آپ کو اپنی پوری حمایت کا یقین دلایا۔ آپ نے کئی بار کہا کہ اے لوگو مجھے مشورہ دو، اور ہر بار مہاجرین اٹھ کر جواب دیتے رہے۔ آخر انصار کو احساس ہوا کہ غالباً آپ ہمارا خیال جاننا چاہتے ہیں۔ یہ احساس ہوتے ہی فوراً ان کے سردار اٹھے اور کہا کہ اے خدا کے رسول، شاید آپ کا اشارہ ہماری طرف ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ انھوں نے کہا کہ اب ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ ہم آپ کو اکیلا چھوڑ دیں۔ اے خدا کے رسول، آپ جو چاہتے ہیں، اس کو کر گزرتے۔ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ خدا کی قسم اگر آپ یہاں سے روانہ ہوں اور چلتے چلتے سمندر میں داخل ہو جائیں تو ہم بھی آپ کے ساتھ سمندر میں داخل ہو جائیں گے۔ ہم میں سے کوئی شخص پیچھے نہ رہے گا (البدایہ والنہایہ ۳/ ۶۳ - ۶۴)

اسی طرح صلح حدیبیہ (۶ھ) کے بعد جب امن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ اطراف عرب کے حاکموں اور بادشاہوں کو دعوتی خطوط روانہ کریں۔ آپ نے صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ تم میں سے کچھ لوگوں کو دعوتی پیغام کے ساتھ عجمی بادشاہوں کی طرف بھیجوں۔ پس تم لوگ میرے ساتھ اختلاف نہ کرو جس طرح بنو اسرائیل نے عیسیٰ بن مریم کے ساتھ اختلاف کیا۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، ہم آپ سے کسی معاملہ میں کبھی اختلاف نہ کریں گے۔ آپ ہم کو حکم دیجئے اور ہم کو جہاں چاہے وہاں بھیجیے (البدایہ والنہایہ ۲/ ۲۶۸)

یہ واقعات اصحاب رسول کی ایک نہایت اہم خصوصیت کو بتا رہے ہیں۔ یہ خصوصیت ہے—

‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues

Printed page