نیا دور
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۱، صفحہ ۴۲
اضافہ کے ساتھ یہ تمام چیزیں پالیں گے۔
۱۔ اس کا ایک المناک نتیجہ یہ تھا کہ مسلمان ہندوستان میں غیر ضروری طور پر مایوسی کا شکار رہے۔ وہ یہ سمجھتے رہے کہ ہندوستان میں ان کے لئے زندگی اور عمل کے مواقع نہیں ہیں۔ اور اس کی وجہ، نا اہل لیڈروں کے بیان کے مطابق، یہ تھی کہ ملک میں انہیں بعض اوقات نا خوشگوار حالات سے سابقہ پیش آتا ہے۔
حالات بتاتے ہیں کہ اب مسلمانوں نے یہ دریافت کر لیا ہے کہ ناخوشگواری کسی خاص ملک کی صفت نہیں بلکہ وہ دنیا کی صفت ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر جگہ، خواہ وہ مسلم ملک ہو یا غیر مسلم ملک، اس قسم کے حالات لازماً پیش آتے ہیں۔ ضرورت یہ ہے کہ حکمت اور تدبیر کے ساتھ ان سے نپٹا جائے۔ یہ حالات دراصل چیلنج ہیں اور چیلنج، خود تخلیق خداوندی کے مطابق، زندگی کا حصہ ہے۔ چیلنج کے ذریعہ ہی انسانیت ترقی کرتی ہے۔ اگر چیلنج نہ ہو تو انسانیت کا قافلہ معطل ہو کر رہ جائے۔ مجھے یقین ہے کہ اس دریافت کے بعد ہندوستان کے مسلمان اس ملک میں نئے حوصلہ کے ساتھ زندگی کی تعمیر کریں گے۔
۲۔ لیڈروں کی غلط رہنمائی کا دوسرا نقصان جو پچھلے برسوں میں مسلمانوں کو اٹھانا پڑا وہ یہ تھا کہ وہ اسلام کی بتائی ہوئی ایک عظیم طاقت سے محروم ہوگئے ۔ قرآن میں مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کوئی شخص تمہارے ساتھ برا سلوک کرے تو تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تمہارا دشمن بھی تمہارا دوست بن جائے گا۔ (۴۱:۳۳)
اسلام کی یہ تعلیم ایک ایسا اخلاقی ہتھیار ہے جس کے اندر تسخیر کی لامحدود صلاحیت ہے۔ دور اول کے مسلمانوں نے اس اخلاقی طاقت کو استعمال کرکے اپنے بدترین دشمنوں کو زیر کر لیا تھا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان بھی اس اسلامی تعلیم کا یہ فائدہ حاصل کرسکتے تھے مگر نا اہل لیڈروں کی غلط رہنمائی نے انہیں اس نعمت سے محروم رکھا۔ اب مسلمانوں نے جو نیا سفر شروع کیا ہے اس میں انشاء اللہ وہ اس اسلامی تعلیم کا بھر پور فائدہ حاصل کر سکیں گے۔
۳۔ نااہل لیڈروں کی غلط رہنمائی کا ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ مسلمان ملک کی ایک اہم حقیقت سے بے خبرہ گئے جو سراسر ان کی موافقت میں تھی۔ کوئی شخص اگر اپنے ماحول کے بارہ میں منفی انداز سے سوچنے
‹ Previous page Next page › Contents of January 1991 All issues