نیا دور
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۱، صفحہ ۴۳
لگے تو اس کا لازمی نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس کو صرف "عسر" کا پہلو دکھائی دیتا ہے ، "یسر" کا پہلو اس کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ اس معاملہ کے مختلف پہلو ہیں۔ یہاں میں صرف ایک پہلو کا ذکر کروں گا۔
ٹائمز آف انڈیا (۹ نومبر ۱۹۹۰) کے آخری صفحہ پر ایک چھوٹی سی خبر چھپی ہے مگر وہ انتہائی اہم ہے۔ بمبئی کی ڈیٹ لائن کے ساتھ چھپنے والی اس خبر میں بتایا گیا ہے کہ ٹائمز آف انڈیا اپنے سات ایڈیشنوں کے ساتھ اس وقت ملک کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا اخبار ہے جس کی ہر روز چھ لاکھ انتیس ہزار (629,000) کاپی فروخت ہوتی ہے۔ خبر کے مطابق اس سے پہلے انڈین ایکسپریس اپنے بارہ ایڈیشنوں کے ساتھ ملک میں سب سے زیادہ بکنے والا اخبار تھا۔ مگر آڈٹ بیورو آف سرکولیشن (ABC) کے تازہ اعلان کے مطابق، ٹائمز آف انڈیا نے پہلی بار سب سے زیادہ چھپنے والے اخبار کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا اپنی موجودہ اشاعت کے ساتھ ملیالامنو ما (Malayala Manorama) سے بھی آگے بڑھ گیا ہے جس کی موجودہ اشاعت چھ لاکھ سات ہزار ہے۔
یہ خبر علامتی طور پر ملک کے ایک واقعہ کو بتاتی ہے۔ رام جنم بھومی تحریک کے سلسلہ میں ٹائمز آف انڈیا نے واضح طور پر اس کے مخالف رویہ اختیار کیا۔ ایڈیٹوریل، مضامین، خطوط اور خبروں کی صورت میں وہ مسلسل یہ تاثر دیتا رہا ہے کہ یہ پوری تحریک دتیانو سیت پر مبنی ہے اور وہ ملک کی ترقی کے لئے تباہ کن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رام جنم بھومی تحریک کے لوگ ٹائمز آف انڈیا کو اپنا دشمن اخبار بتاتے ہیں۔
اس وقت ملک کے جو حالات ہیں ، ان میں ٹائمز آف انڈیا کی اشاعت کا بڑھنا علامتی طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوؤں کے تعلیم یافتہ طبقہ کی سوچ وہی ہے جو ٹائمز آف انڈیا کی سوچ ہے۔ یہ طبقہ اس پوری تحریک کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے۔
مذکورہ خبر اس واقعہ کی صرف ایک علامت ہے۔ ورنہ مختلف صورتوں میں یہ بات بار بار سامنے آچکی ہے۔ ہندوستان کے تمام بڑے سے بڑے ہندو مورخین نے اس معاملہ میں رام جنم بھومی کے دعویٰ کو غیر تاریخی قرار دے کر اس کی مذمت کی ہے۔ ان کی یہ مذمت عالمی سطح پر مشہور ہو چکی ہے۔ حتیٰ کہ امریکہ کے ٹائم میگزین نے بھی نمایاں طور پر اس کا اظہار کیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1991 All issues