Al-Risala · September 1991 · page 29

نہیں میں ہے کو دیکھنا

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۹

فقال : أبشروا فقد والله اعطانا الله سعد بن ابی وقاص نے کہا کہ تم کو خوش خبری ہو۔ خدا کی اقاليد ملكهم وتفاء لوا بذلك قسم، اللہ نے ہمیں ان کے اقتدار کی کنجیاں دیدیں۔ اخذ بلادهم۔ ثم لم يزل امر الصحابة اور مٹی سے انھوں نے فال لیا کہ ان کا ملک ہمیں يزداد في كل يوم علواً وشرفاً حاصل ہوگا۔ اس کے بعد صحابہ ہر روز بلندی اور شرف ورفعة وينحط امر الفرس سفلاً اور رفعت میں بڑھتے رہے اور ایرانی پستی اور وذلاو وهنا ذلت اور ناکامی میں گرتے چلے گئے۔

مسلم وفد کو محل سے نکال دینے کے بعد یزدگرد نے یہ واقعہ رستم کو بتایا۔ اور مٹی کا ٹوکرا سر پر رکھنے کے معاملہ کو ان کی حماقت قرار دیا۔ رستم نے کہا کہ نہیں، وہ آدمی احمق نہیں تھا، خدا کی قسم وہ لوگ تو ہمارے ملک کی کنجیاں اٹھا لے گئے (واللہ ذهبوا بمفاتیح ارضنا) البدایہ والنہایہ، ۴/ ۲۴- ۴۲ سوچنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے حالات میں گھِر کر سوچنا، دوسرا ہے حالات سے اوپر اٹھ کر سوچنا۔ ایک ہے نفرت اور محبت جیسے جذبات کے تحت رائے قائم کرنا، دوسرا ہے نفرت اور محبت۔ جیسے جذبات سے بلند ہو کر رائے قائم کرنا۔ عام طور پر لوگ حالات سے متاثر ہو کر سوچتے ہیں، وہ فوری جذبات کے زیر اثر اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ مگر صحابہ کرام ان چیزوں سے اوپر تھے ۔ وہ حالات اور جذباتی محرکات سے اوپر اٹھ کر خود اپنے فیصلہ کے تحت یہ طے کرتے تھے کہ انھیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔

صحابہ کی اس صفت نے ان کو بے پناہ حد تک طاقت ور بنا دیا تھا۔ انہیں مٹی دی جاتی اور وہ اس کو فتح کے تاج کی طرح قبول کر لیتے تھے۔ جس واقعہ کو لوگ بے عزتی کے ہم معنی سمجھ لیتے ہیں، اس سے وہ عزت کا مفہوم نکال لیتے تھے۔ جو تجربہ لوگوں کو جھنجلاہٹ میں مبتلا کر دیتا ہے، اس سے وہ اپنے لیے یقین کی غذا حاصل کر لیتے تھے۔

صحابہ انسانی تاریخ کے وہ انوکھے افراد تھے جو عُسر میں یُسر کا راز پا لیتے تھے۔ جو ناکامی سے کامیابی کو نچوڑتے تھے۔ جو شکست کے واقعہ کو فتح کے واقعہ میں تبدیل کر دیتے تھے۔ جو مایوسی کی تاریکی میں امید کی روشنی دیکھ لیتے تھے۔ رکھنے والا ان کے سر پر مٹی کا ٹوکرا رکھتا تھا، اور وہ سمجھتے کہ اس نے خود ہی اپنا ملک ہمارے حوالے کر دیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues

Printed page