نہیں میں ہے کو دیکھنا
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۰
ملن نٌظری بند سگری ۱۷ھ کے آخر میں شام اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں طاعون کی وبا پھیلی ۔ ۱۸ھ میں یہ وبا ایت شدید ہوگئی۔ اس وقت شام کی مسلم فوجوں کے سپہ سالار ابو عبیدہ بن الجراح نہ تھے۔ ان کی پالیسی یہ تھی کہ مسلمان جہاں ہیں وہیں ٹھہرے رہیں۔ حضرت ابو عبیدہ اس مرض میں مبتلا ہوئے اور اسی میں ان کا انتقال ہو گیا ۔
ان کے بعد معاذ بن جبل اس علاقہ کی مسلم فوجوں کے سپہ سالار مقرر ہوئے۔ ان کی پالیسی بھی وہی رہی جو حضرت ابو عبیدہ کی پالیسی تھی۔ حضرت معاذ بن جبل اس مرض میں مبتلا ہوئے اور ان کا بھی اسی مرض میں انتقال ہو گیا۔
اس کے بعد عمروبن العاص اس علاقہ کی مسلم افواج کے سپہ سالار مقرر ہوئے۔ انھوں نے اپنی پالیسی بدلی۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنی موجودہ جگہ کو چھوڑ دیں۔ مورخ ابن کثیر لکھتے ہیں : پہ، پچ، چ، پ، چ، ب، ر، ؤ، ط، ے، م، ب، م، پ، گ فلما مات استخلف على الناس عمرو بن العاص فقام فيهم خطيبا فقال ۔ ايها الناس، إن هذا الوجع اذا وقع فانما يشتعل اشتعال النار فتحصنوا منه فى الجبال۔
پھر جب معاذ بن جبل کی وفات ہو گئی تو عمروبن العاص لوگوں کے اوپر سردار مقرر ہوئے۔ انھوں نے کھڑے ہو کر لوگوں کے درمیان تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ اے لوگو، یہ بیماری جب آتی ہے تو وہ آگ کی طرح بھڑک اٹھتی ہے۔ پس تم لوگ پہاڑوں فقال ابو وائل الهذلى كذبت والله ـ لقد صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم وانت شر من حماري هذا فقال والله ما ارد عليك ما تقول میں اپنے آپ کو اس سے محفوظ کر لو۔ یہ سن کر ابو وائل هذلی نے کہا کہ خدا کی قسم تم نے جھوٹ کہا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی ہے۔ اور تم میرے اس گدھے سے بھی زیادہ برے ہو عمرو بن العاص نے کہا کہ خدا کی قسم تم جو کہہ رہے ہو اس کا میں کوئی جواب نہیں دوں گا۔
( البدایۃ والنہایہ، ۷۹/۷) ، ۷ / یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ صحابہ کرام کے درمیان کتنی سخت تنقیدوں کا رواج تھا۔ ان کے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues