Al-Risala · September 1991 · page 23

بے لاگ انصاف

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۳

کیونکہ خود آپ سے میں نے یہ سنا ہے کہ بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں معتبر نہیں۔ اس کے بعد حضرت علی نے قاضی شریح کے فیصلہ کو قبول کر لیا۔

اس واقعہ کا نصرانی کے اوپر بہت اثر ہوا۔ اس نے کہا کہ خدا کی قسم اے امیر المومنین، یہ زرہ آپ ہی کی ہے۔ آپ کے اونٹ سے وہ گر گئی تھی۔ پھر میں نے اس کو اٹھا لیا۔ پھر نصرانی نے کہا کہ اسلام کی یہ بات بہت عجیب ہے کہ امیر المومنین خود میرے ساتھ قاضی کے پاس آئے۔ قاضی اس کے خلاف فیصلہ کرے اور وہ اس فیصلہ پر راضی ہو جائے۔

اس کے بعد نصرانی نے کلمہ اسلام پڑھ کر کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ حضرت علی نے کہا کہ جب تم نے اسلام قبول کر لیا تو یہ زرہ اب تمہاری ہے۔ اسی کے ساتھ اس کو سات سو درہم اور ایک گھوڑا دیا۔ اس کے بعد وہ نصرانی حضرت علی کا ساتھی بن گیا۔ یہاں تک کہ جنگ صفین میں لڑتے ہوئے شہید ہوا ( (حیاۃ الصحابہ ۳۵/۱-۲۲۴) قدیم زمانہ میں ہمیشہ حکمراں کو قانون سے بالاتر سمجھا جاتا تھا۔ یہ ناقابل تصور تھا کہ ایک حکمراں کو عدالت میں معمولی انسان کی طرح کھڑا کیا جاسکے۔ موجودہ جمہوری زمانہ میں اگرچہ خالص قانونی اعتبار سے حکمراں اور عوام کو برابر سمجھا جاتا ہے۔ تاہم آج بھی عملی طور پر یہ نا ممکن ہے کہ ایک بر سر اقتدار شخص کو عدالت میں بلایا جائے اور جج کی کرسی پر بیٹھنے والا آدمی عام انسانوں کی طرح اس کے اوپر قانون کا نفاذ کرے۔

پوری معلوم تاریخ میں یہ صرف اصحاب رسول ہیں جنہوں نے یہ استثنائی مثال قائم کی کہ ان کے ایک حاکم کو عدالت میں لایا جائے اور ایک عام انسان کی طرح مقدمہ چلا کر اس کے معاملہ کا فیصلہ کیا جائے۔

انسانی ضمیر یہ چاہتا ہے کہ ہر آدمی یکساں طور پر قانون کے سامنے جواب دہ ہو۔ مگر انسانی ضمیر کی یہ طلب حقیقی معنوں میں صرف ایک ہی دور میں عملی واقعہ بن سکی ، اور وہ بلاشبہ اصحاب رسول کا دور ہے۔

بادشاہ پر یکساں انصاف کی بات اصحاب رسول سے پہلے صرف افسانہ کی کتابوں میں تھی۔ اصحاب رسول نے اس کو افسانہ سے اٹھا کر حقیقی زندگی کا واقعہ بنا دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues

Printed page