Al-Risala · September 1991 · page 32

بے لاگ انصاف

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۲

بے لاگ انصاف

اسلام کے چوتھے خلیفہ راشد حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ حدیث اور تاریخ کی کتابوں میں ذکر کیا گیا ہے۔ اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے :

علی بن ابی طالب جب خلیفہ تھے ، ایک روز وہ بازار کی طرف نکلے ۔ انھوں نے دیکھا کہ ایک نصرانی وہاں ایک زرہ بیچ رہا ہے ۔ حضرت علی نے پہچان لیا کہ یہ ان کی وہی زرہ ہے جو اس سے پہلے کھو گئی تھی ۔ انھوں نے نصرانی سے کہا کہ یہ زرہ میری ہے ۔ نصرانی نے انکار کیا۔ حضرت علی نے کہا کہ پھر مسلمانوں کے قاضی کے پاس چلو ، وہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اس وقت کوفہ میں مسلمانوں کے قاضی شریح بن الحارث تھے ۔ وہ ۷۷ ہجری تک اس عہدہ پر ہیں۔ چنانچہ دونوں وہاں گئے۔ جب قاضی شریح نے امیر المؤمنین کو دیکھا تو وہ اپنے مقام سے اٹھ گئے اور حضرت علی کو اپنے مقام پر بٹھایا۔ اور قاضی شریح خود ان کے سامنے نصرانی کے پہلو میں بیٹھ گئے۔

حضرت علی نے کہا کہ اے شریح ، میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کرو ۔ شریح نے کہا کہ اے امیر المؤمنین ، آپ کیا کہتے ہیں۔ حضرت علی نے کہا کہ یہ میری زرہ ہے۔ کچھ دن پہلے وہ مجھ سے کھو گئی تھی ۔ پھر قاضی شریح نے نصرانی سے کہا کہ تم کیا کہتے ہو ۔ نصرانی نے کہا کہ امیر المؤمنین جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ یہ زرہ میری زرہ ہے۔

قاضی شریح نے حضرت علی سے کہا کہ کیا آپ کے پاس کوئی دلیل (بینہ) ہے۔ کیونکہ دلیل اور شہادت کے بغیر آپ زرہ کو اس کے ہاتھ سے نہیں لے سکتے ۔ حضرت علی نے کہا کہ شریح نے سچ کہا ۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی طرف سے دو گواہ پیش کیے ۔ ایک اپنے لڑکے حسن کو ، اور دوسرے اپنے غلام قنبر کو ۔ قاضی شریح نے کہا کہ حسن کے علاوہ کوئی اور گواہ لائیے۔ حضرت علی نے کہا کہ کیا تم حسن کی شہادت کو رد کرتے ہو۔ کیا تم کو یہ حدیث نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ حسن اور حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔

قاضی شریح نے کہا کہ قنبر کی گواہی میں قبول کرتا ہوں مگر حسن کی گواہی میں قبول نہیں کر سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues

Printed page