معاہدہ کی پابندی
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۹
معاویة بالن) مشکاۃ المصابیح، الجز ء الثانی، صفحہ ۱۶۵ بین الالالالاقوامی دنیا میں ہمیشہ سے یہ رواج چلا آ رہا تھا کہ جس قوم سے دشمنی ہو جاتی تھی، اس کے بارہ میں لوگ کسی اخلاقی اصول کی پیروی ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ حتیٰ کہ ایسی قوم سے بظاہر امن اور صلح کا معاہدہ کرنے کے باوجود اندر اندر اس کے خلاف کارروائی جاری رکھتے تھے۔ اسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو جو نمونہ قائم کرنا تھا، اس میں یہ بھی شامل تھا کہ بین اقوامی تعلقات میں اخلاقی اصولوں کو پوری طرح نبھایا جائے۔ مثلاً کسی قوم سے معاہدہ ہو تو اس اس معاہدہ کی آخری حد تک پابندی کی جائے۔ اور اگر اس قوم کی طرف سے خیانت کا اندیشہ ہو تب بھی کوئی کارروائی صرف اس وقت کی جائے جب کہ اس قوم کو اس سے مطلع کر دیا جائے تاکہ معاہدہ کے دوسرے فریق کو بخوبی طور پر معلوم ہو جائے کہ اب دونوں کے درمیان سابقہ حالت باقی نہیں ہے۔
یہ بلاشبہ ایک بے حد اہم اصول تھا۔ مگر اس کو عملی طور پر قائم کرنے کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہ تھا۔ کیونکہ یہ خود اپنے مفاد کے خلاف تھا۔ ظاہر ہے کہ اگر دشمن کو پیشگی طور پر بتا دیا جائے کہ تمہارے ساتھ امن کی حالت ختم ہو چکی ہے اور اب ہم تمہارے اوپر حملہ کرنے والے ہیں تو ایسی حالت میں دشمن چوکس ہو جائے گا۔ وہ تیاری کر کے سخت مقابلہ کرے گا۔ حتیٰ کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ہمارا اقدام ہمارے لیے الٹا ثابت ہو جائے۔
اس صورت حال میں اس بین اقوامی اصول کو عملاً قائم کرنے کے لیے ایک بے حد با اصول قوم درکار تھی۔ جو ہر دوسرے پہلو کو نظر انداز کر کے اصول کو اعلیٰ ترین حیثیت دینے کا حوصلہ رکھتی ہو۔ جو ہر نقصان کو گوارا کر لے مگر اصول کی خلاف ورزی گوارا نہ کرے۔
مذکورہ واقعہ ایک مثال ہے جو بتاتا ہے کہ اصحابِ رسول نے اس حوصلہ کا ثبوت دیا۔ وہ اس کے لیے مطلوبہ قربانی دینے پر راضی ہو گئے۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ تاریخ میں پہلی بار بین اقوامی تعلقات میں یہ اصول عملاً قائم ہوا کہ دو قوموں میں بگاڑ اور عناد ہو تب بھی اخلاقی روایات کو نہ توڑا جائے۔ دشمن سے مقابلہ میں بھی سچائی اور شرافت کے خلاف عمل نہ کیا جائے۔
ہر اصول کی ایک قیمت ہے۔ لوگ قیمت دینا نہیں چاہتے، اس لیے وہ اس پر عمل بھی نہیں کرتے۔ صحابہ نے ہر اصول کی مطلوبہ قیمت ادا کی، اسی لیے وہ ہر اصول پر عمل کرنے میں کامیاب رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues