تاریخ ساز
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۰
تاریخ ساز
خلیفہ چہارم عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ اسلامی تاریخ کی مختلف کتابوں میں مذکور ہے۔ امام جمال الدین ابو الفرج بن الجوزی (م ۵۹۷ھ) نے اپنی کتاب تاریخ عمر بن الخطاب میں اس واقعہ کو نسبتاً زیادہ تفصیل کے ساتھ درج کیا ہے۔ ذیل میں اس کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے۔ انس بن مالک کہتے ہیں کہ ہم عمر بن الخطاب کے پاس تھے کہ ان کے یہاں اہل مصر کا ایک آدمی آیا۔ اس نے کہا کہ اے امیر المومنین، میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ تمہارا کیا معاملہ ہے مصری نے کہا کہ مصر کے حاکم عمرو بن العاص نے مصر میں گھوڑوں کی دوڑ کرائی۔ اس میں ایک گھوڑا بڑھ گیا جو میرا تھا۔ پھر جب لوگ آکر میرے گھوڑے کو دیکھنے لگے تو عمرو بن العاص کے لڑکے محمد اٹھے۔ انھوں نے کہا کہ کعبہ کے رب کی قسم، میرا گھوڑا بڑھ گیا ۔ جب وہ میرے قریب آئے اور میں نے ان کو پہچانا تو میں نے کہا کہ کعبہ کے رب کی قسم، میرا گھوڑا۔ اس پر محمد بن عمرو یہ کہتے ہوئے مجھے کوڑے سے مارنے لگے کہ یہ لو، اور میں شریفوں کی اولاد ہوں (خذھا، خذھا، وانا ابن الاکرمین)
راوی کہتے ہیں کہ خدا کی قسم، عمر نے اس کے سوا اور کچھ نہ کیا کہ انھوں نے مصری سے کہا کہ بیٹھو۔ پھر انھوں نے عمرو بن العاص کے نام خط لکھا کہ جب تم کو میرا یہ خط پہنچے تو تم فوراً مدینہ آجاؤ اور اپنے ساتھ اپنے لڑکے محمد کو بھی لے آؤ۔ راوی کہتے ہیں کہ جب خط پہنچا تو عمرو بن العاص نے اپنے بیٹے کو بلایا اور کہا کہ کیا تم سے کوئی بات سرزد ہوئی ہے، کیا تم نے کوئی جرم کیا ہے۔ محمد نے کہا کہ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ پھر کیا وجہ ہے کہ عمر تمہارے بارہ میں ایسا لکھ رہے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر دونوں چل کر عمر کے پاس آئے۔
انس بن مالک کہتے ہیں کہ خدا کی قسم، اس وقت ہم لوگ عمر کے پاس منیٰ میں تھے کہ اتنے میں عمرو بن العاص آئے۔ ان کے جسم پر ایک ازار اور ایک چادر تھی۔ پھر عمر ان کی طرف متوجہ ہوئے تاکہ ان کے لڑکے کو دیکھیں، تو وہ اپنے باپ کے پیچھے کھڑے تھے۔ عمر نے کہا کہ مصری کہاں ہے۔ اس نے کہا کہ میں یہ ہوں۔ عمر نے کہا کہ یہ کوڑا لو، شریف زادہ کو مارو، شریف زادہ کو مارو۔ راوی کہتے ہیں کہ مصری نے ان کو مارا یہاں تک کہ ان کو خون آلود کر دیا (فضربه حتى اثخنه)
‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues