بہتر حکمراں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۴۲
بہتر حکمراں
افلاطون - ۴۲۸ م قدیم یونان کے تین بڑے فلسفیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ دوسرے دو فلسفی سقراط اور ارسطو ہیں۔ اس کی ایک مشہور کتاب ”رپبلک“ ہے۔ یہ آئیڈیل ریاست سے بحث کرتی ہے، اور مکالمات کی صورت میں ہے۔ اچھے حکمراں کیسے بنتے ہیں، اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے افلاطون نے جو بات کہی ہے، اس کا ترجمہ انگریزی میں اس طرح کیا گیا ہے : Unless philosophers bear kingly rule.... or those who are now called kings and princes become genuine and adequate philosophers, there will be no respite from evil. جب تک فلاسفہ بادشاہت کا عہدہ نہ سنبھال لیں، یا جو لوگ آج بادشاہ اور شہزادے کہے جاتے ہیں وہ واقعی فلسفی نہ ہو جائیں، اس وقت تک برے بادشاہوں سے نجات ملنے والی نہیں۔ افلاطون کے اس نظریہ کے بعد ایسے متعدد اندر احکمران ہوئے ہیں جن کو فلسفی بادشاہ (philosopher-king) کہا جاتا ہے۔ مثلاً رومی بادشاہ مارکس ارلیس (Marcus Aurelius) روس کی ملکہ کیتھرین دوم (Catherine II) پروشیا کا فریڈرک دوم (Frederick II) مقدونیہ کا ڈیمیٹریس (Demetrius) اور عہد حاضر میں سنگاپور کا لی کوان ایو (Lee Kuan Yew) فلسفی حکمراں تھے۔ مگر وہ بہتر حکمراں ثابت نہ ہو سکے۔
خود یونانی فلسفیوں کے کچھ شاگرد بادشاہ کے عہدے تک پہنچے۔ مثلاً ارسطو اسکندر رومی کا معلم تھا۔ اسی طرح ڈیمیٹریس ارسطو کے مدرسہ فلسفہ کا تربیت یافتہ تھا۔ مگر یہ فلسفی حکمراں دوسروں سے بہتر حکمراں ثابت نہ ہو سکے۔ پیٹر گرین (Peter Green) کے الفاظ میں، جو ہوا وہ یہ تھا کہ کچھ نہیں ہوا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اقتدار فلسفیوں کو بھی بگاڑ دیتا ہے :
What happened was, nothing happened.... Power, it appeared, could corrupt even philosophers (Time magazine, May 13, 1991). کارل مارکس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ تمام خرابیوں کی جڑ ملکیت کا اقتصادی نظام ہے۔ اقتصادی ملکیت کے نظام میں ایک مالک ہوتا ہے اور دوسرا مملوک۔ اس بنا پر جو مالک ہے وہ مملوک کا
‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues