Al-Risala · September 1991 · page 43

بہتر حکمراں

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۴۳

استحصال کرتا ہے۔ اگر انفرادی ملکیت کے نظام کو ختم کر کے ”سب کی ملکیت“ کا نظام قائم کر دیا جائے تو ہر قسم کے ظلم و جبر کی جڑ کٹ جائے ۔ اس کے بعد نہ کوئی مالک ہوگا اور نہ کوئی مملوک، پھر کون کس کا استحصال کرے گا۔ کون کس کے اوپر ظلم کرے گا۔

۱۹۱۷ء میں روس میں مارکسی انقلاب آیا اور مذکورہ قسم کا بے ملکیتی نظام بزور قائم کر دیا گیا مگر بعد کے حالات نے بتایا کہ مارکس کا تجویز کیا ہوا بے ملکیتی نظام تاریخ کا سب سے زیادہ ظالمانہ نظام تھا۔ اور وہاں کے حکمراں تمام حکمرانوں سے زیادہ جابر اور متشدد ۔ نام نہاد اجتماعی ملکیت کے نظام نے ظلم و جبر میں مزید اضافہ کر دیا۔

اسی طرح بیسویں صدی کے نصف اول میں ایشیا اور افریقہ میں بہت بڑے پیمانے پر نوآبادیاتی نظام کے خلاف آزادی کی تحریکیں اٹھیں۔ ان تحریکوں کے علم برداروں کا کہنا تھا کہ تمام ظلم و فساد کا سبب بدیشی راج ہے۔ اگر ملک میں دیش کے لوگوں کا راج قائم کر دیا جائے تو ظالمانہ حکمرانی کا اپنے آپ خاتمہ ہو جائے گا۔ قومی آزادی کی یہ تحریک کامیاب ہوئی اور ہر ملک میں خود ملک کے افراد حکومت کے عہدوں کے مالک ہو گئے ۔ مگر ظلم و جبر کا خاتمہ نہ ہو سکا۔ ملکی افراد بدستور ظالم حکمراں بنے رہے ۔ جو ظلم پہلے بدیشیوں کے ہاتھ سے ہوتا تھا، وہ اب دیش والوں کے ہاتھ سے ہونے لگا۔

خدا کا دین (اسلام) مذکورہ قسم کے تمام دعوؤں کو غلط بتاتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ انسان کے اندر حقیقی اصلاح صرف ایک چیز سے پیدا ہوتی ہے، اور وہ اللہ کا خوف ہے ۔ اللہ کے ڈر کے سوا کوئی چیز نہیں جو ایک با اقتدار انسان کو عدل اور حق کے معیار پر قائم رکھ سکے۔

صحابہ نے پہلے یہ دعویٰ، عام انسان کی نظر میں ، صرف ایک دعویٰ تھا۔ کیوں کہ خالص تاریخی اعتبار سے وہ ثابت شدہ نہیں بنا تھا۔ ان سے پہلے مدون تاریخ میں کوئی ایسی معلوم مثال نہ تھی جو اس نظریہ کو واقعاتی طور پر ثابت کرتی ہو۔

صحابہ نے اس نظریہ کے حق میں واقعاتی مثال قائم کی۔ ان کو اقتدار ملا، مگر وہ اس بگاڑ سے محفوظ رہے، جس میں ہر دور کے حکمراں مبتلا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام ایک دعویٰ ہے اور اصحاب رسول اس کی دلیل۔ اسلام ایک نظریہ ہے اور اصحاب رسول اس نظریہ کے حق میں عملی تصدیق۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues

Printed page