Al-Risala · September 1991 · page 45

نئے دور کے نقیب

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۴۵

لند عن هم اليه۔ فمن قبل پس اللہ نے ہم کو اپنے دین کے ساتھ اپنی مخلوق کی طرف ذلك قبلنا منه ورجعنا عنه۔ بھیجا ہے تاکہ ہم لوگوں کو اس کی طرف بلائیں۔ پس جو ومن ابی قاتلناه ابدا حتی نفضی اس کو قبول کر لے ہم بھی اس سے قبول کر لیں گے اور الی موعود الله (البدایۃ والنہایۃ ، ۳۹/۷) اس سے واپس چلے جائیں گے۔ اور جو کوئی انکار کرے اس سے ہم لڑیں گے یہاں تک کہ اس کو اللہ کے وعدہ تک پہنچا دیں۔

صحابی کے یہ الفاظ کوئی سادہ الفاظ نہ تھے۔ اس میں دراصل اس عظیم انقلاب کی طرف اشارہ تھا جو اصحابِ رسول کے ذریعہ لایا گیا اور جس نے عالمی سطح پر انسانی تاریخ کو بدل دیا۔ اس کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب " اسلام دورِ جدید کا خالق " میں دیکھی جاسکتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت دنیا کی صورتِ حال یہ تھی کہ ساری دنیا میں نسلی بادشاہت کا رواج تھا۔ اس بادشاہت نے ہر جگہ جبر کی وہ فضا پیدا کر رکھی تھی جس کو ہنری پرین نے شاہانہ مطلقیت (imperial absolutism) کہا ہے۔ ایک شخص جس کے سر پر حکومت کا تاج ہو وہ سب کا آقا تھا، اور تمام لوگ اس کے غلام۔

مشرکانہ مذہب اور مطلق شہنشاہیت دونوں نے مل کر فطرت کے سائنسی مطالعہ کا دروازہ بند کر رکھا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ فطرت میں چھپی ہوئی خدا کی تمام نعمتیں بے دریافت اور غیر استعمال شدہ بنی ہوئی تھیں ۔ مذہب میں مذہبی پیشواؤں کا مکمل قبضہ تھا۔ وہ دنیا میں خدا کے نمائندہ بن کر انسانوں کو اپنا بندہ بنائے ہوئے تھے۔ ان کے گھڑے ہوئے مصنوعی مذہب کے نیچے پوری انسانیت پس رہی تھی۔ اس پیشوائی نظام سے اختلاف کرنے والے کو سخت ترین سزا دی جاتی تھی تاکہ لوگ دبے رہیں اور اس سے بغاوت کی جرات نہ کر سکیں۔ اللہ کو مطلوب تھا کہ اس حالت کو بدلا جائے۔ اصحابِ رسول نے غیر معمولی قربانیوں کے ذریعہ جبر کے اس نظام کو توڑا۔ انھوں نے انسان کے اوپر خدائی رحمتوں کا وہ دروازہ کھول دیا جو ہزاروں سال سے ان کے اوپر بند پڑا ہوا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues

Printed page