Al-Risala · September 1991 · page 44

نئے دور کے نقیب

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۴۴

نئے دور کے نقیب

خلیفہ دوم عمر فاروق کے زمانہ میں ایران فتح ہوا۔ ایران کی مسلح فوجوں کے سپہ سالار حضرت سعد بن ابی وقاص تھے۔

اس زمانہ کے واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ ایرانی بادشاہ یزدگرد کی ہدایت پر اس کے سپہ سالار رستم نے حضرت سعد کو یہ پیغام بھیجا کہ صلح کی بات چیت کے لیے اپنے آدمیوں کا ایک وفد بھیجیے۔ اس دوران جو لوگ ایرانی حکمرانوں سے بات کرنے کے لیے ان کے یہاں گئے، ان میں سے ایک حضرت ربعی بن عامر تھے۔

ربعی بن عامر رستم کے دربار میں پہنچے۔ اس نے اپنے دربار کو نہایت شاندار طور پر سجایا تھا۔ قیمتی قالین، عالی شان تخت، سونا چاندی اور ہیرے اور جواہر کے آرائشی سامانوں سے وسیع خیمہ جگمگا رہا تھا۔ رستم اپنے سر پر سنہری تاج پہنے ہوئے اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ ربعی بن عامر کے جسم پر نہایت معمولی کپڑا تھا۔ وہ ایک تلوار لٹکائے ہوئے اور ایک چھوٹے گھوڑے پر سوار ہو کر اندر داخل ہوئے۔ وہ گھوڑے سے اترے نہیں، یہاں تک کہ وہ رستم کے تخت تک پہنچ گئے۔ تخت کے پاس پہنچ کر وہ گھوڑے سے اترے اور قالین میں اپنا نیزہ گاڑ کر اس سے اپنے گھوڑے کو باندھ دیا۔ رستم کے آدمیوں نے اس بے باکانہ انداز پر اعتراض کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ میں خود سے نہیں آیا ہوں۔ بلکہ تمہارے بلانے پر آیا ہوں۔ اگر تم مجھ کو میرے حال پر رہنے دو تو ٹھیک ہے، ورنہ میں واپس چلا جاؤں گا۔

رستم نے اپنے آدمیوں کو روکا اور کہا کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو، ان سے تعرض نہ کرو۔ رستم نے مختلف سوالات کیے جس کا انھوں نے دوٹوک انداز میں جواب دیا۔ رستم کے ایک سوال کا جواب انھوں نے ان الفاظ میں دیا :

قال : الله ابتعثنا لنخرج من شاء انھوں نے کہا کہ اللہ نے ہم کو بھیجا ہے تاکہ اللہ من عبادة العباد الى عبادة الله کے بندوں میں سے جس کو وہ چاہے ہم اس کو و من ضيق الدنيا الى سعتها بندوں کی عبادت سے نکال کر اللہ کی عبادت

‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues

Printed page