Al-Risala · September 1991 · page 47

نمونہ انسانیت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۴۷

حول میں دین دار بنے ہوئے ہیں، انھیں مذہبی جبر کے ماحول میں دین کو اختیار کرنا پڑا۔ آج ہم ایک پر فخر اسلامی تاریخ کے مالک ہیں، انھیں ایک ایسے اسلام سے وابستہ ہونا پڑا جس کی سرے سے کوئی تاریخ ہی نہ تھی۔

آج لوگوں کو اسلام کے نام پر بڑے بڑے اعزازات مل رہے ہیں، انھیں اسلام کی خاطر اپنے آپ کو بالکل بے قیمت کر دینا پڑا۔ آج اسلام کی علم برداری سے ہر جگہ لوگوں کو قیادت اور استقبال کا تحفہ حاصل ہو رہا ہے ، انھیں ایک ایسے اسلام کا علم بردار بننا پڑا جس نے ان کی موجودہ عزت و رفعت کو بھی مٹی میں ملا دیا۔

صحابہ نے جس اسلام کو اختیار کیا اس کو اختیار کرنا اخلاص کے بغیر ممکن نہ تھا۔ انھوں نے جس دین کو اپنا دین بنایا اس کا محرک اللہ کی رضا کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا۔ ان کا اسلام مکمل طور پر بے داغ اسلام تھا۔ ان کی للہیت ہر امتحان میں پوری اتری تھی، یہی وجہ ہے کہ وہ تاریخ کے وہ منتخب گروہ قرار پائے جس کی تقلید کی جائے۔ جس کے نمونہ کو ہمیشہ کے لیے اپنا رہنما بنا لیا جائے۔

جو لوگ معمول کے حالات میں اسلام کو اختیار کریں، وہ کبھی اسلام کا نمونہ نہیں بن سکتے اسی طرح جو لوگ اس دور میں اسلام کا نام لیں جب کہ اسلام کا نام لینے سے قیادت ملتی ہے۔ اقتصادی فائدے حاصل ہوتے ہیں، اور سماج میں عزت کا مقام حاصل ہوتا ہے، وہ بھی نمونہ بننے کے لائق نہیں۔ کیونکہ نمونہ کے لیے خالص ہونا ضروری ہے۔

اسلام کا نمونہ صرف وہ لوگ بن سکتے ہیں جو غیر معمولی حالات میں اسلام پر قائم رہیں۔ جو اس دور میں اسلام کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کریں جب کہ اس کے ساتھ وابستگی کے بعد ملی ہوئی عزت بھی ختم ہو جائے۔ جب آدمی عوام کے درمیان اپنی مقبولیت کھودے۔

اصحاب رسول اسی قسم کے غیر معمولی لوگ تھے جنہوں نے غیر معمولی حالات میں اسلام کا ساتھ دیا۔ انھوں نے کھونے کی قیمت پر اپنے آپ کو اسلام کے ساتھ وابستہ کیا۔ وہ اعلیٰ انسانیت پر کھڑے ہوئے۔ وہ اپنے معیاری قول و عمل کی بنا پر اس قابل ٹھہرے کہ وہ تمام قوموں اور تمام نسلوں کے لیے رول ماڈل ہوں۔ وہ قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے ابدی مثال بن جائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues

Printed page