دنیا کے لیے رحمت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۴۸
دنیا کے لیے رحمت
پیغمبروں کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ رہی ہے کہ ان کی مخاطب قوم اگر ان کو نہ مانے تو اس کو زمینی یا آسمانی عذاب کے ذریعہ ہلاک کر دیا جائے ۔ چنانچہ پچھلے زمانوں میں ایسا ہوا کہ پیغمبروں کی مخاطب قومیں اپنے انکار کے سبب سے بار بار ہلاک کی جاتی رہیں (العنکبوت ۴۰) آخر کار اللہ نے چاہا کہ ایک ایسا پیغمبر بھیجے جس کے بعد ہلاکتا کا مذکورہ سلسلہ ختم ہو جائے ۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم یہی خاص پیغمبر تھے۔ اسی لیے قرآن میں آپ کو دنیا والوں کے لیے رحمت (الانبیاء ۱۰۷) کہا گیا ہے ۔ اس آیت سے متعلق مفسرین کے کچھ اقوال یہاں نقل کیے جاتے ہیں :
قولہ تعالیٰ (وما ارسلناك الا رحمة | "اور ہم نے تم کو بس رحمت بنا کر بھیجا ہے" اس کی للعالمين) قال سعيد بن جبير عن ابن | تفسیر میں عبد اللہ بن عباس نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم عباس قال : كان محمد صلى الله عليه | تمام انسانوں کے لیے رحمت تھے۔ جو آدمی آپ پر وسلم رحمة لجميع الناس فمن آمن | ایمان لایا اور آپ کی تصدیق کی اس نے سعادت به وصدق به ومن لم يؤمن به | حاصل کی اور جو آدمی آپ پر ایمان نہیں لایا وہ زمین سلم مما لحق الأمم من الخسف | میں دھنسنے اور غرق ہونے کے اس عذاب سے والغرق (الجامع لاحکام القرآن ۳۵۰/۱۱) | بچ گیا جو دوسری قوموں کو پیش آیا۔ فان قيل فاي رحمة حصلت لمن كفر به۔ | اگر یہ کہا جائے کہ اس کو کون سی رحمت ملی جس نے فالجواب ما رواه أبو جعفر بن جرير | آپ کا انکار کیا۔ تو اس کا جواب وہ ہے جو ابن جریر عن ابن عباس ، قال من آمن بالله | نے عبداللہ بن عباس سے روایت کیا ہے۔ انھوں واليوم الآخر كتب له الرحمة | نے کہا کہ جو آدمی اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان لایا في الدنيا والآخرة۔ ومن لم يؤمن | اس کے لیے دنیا اور آخرت میں رحمت لکھ دی گئی۔ بالله ورسوله عوفى مما اصاب الامم | اور جو آدمی اللہ اور رسول پر ایمان نہیں لایا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1991 All issues