سادگی میں عظمت
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۱، صفحہ ۶
سادگی میں عظمت
ایک مرتبہ میں ایک قصبہ میں گیا۔ وہاں ایک مسجد میں چند بار نماز پڑھی۔ میں نے دیکھا کہ اس مسجد کے جو امام ہیں، وہ لوگوں کے درمیان نہایت محبوب ہیں۔ لوگ ان کا بہت احترام کرتے ہیں۔ وہ جو بات کہہ دیں ، اس کو تمام لوگ فوراً مان لیتے ہیں۔ میں نے مختلف لوگوں سے پوچھا کہ امام صاحب کی اس مقبولیت کا سبب کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے کچھ سادہ اصولوں پر پابندی سے عمل کرتے ہیں۔ اور یہی ان کی مقبولیت اور محبوبیت کا راز ہے ۔
امام صاحب کا معمول تھا کہ وہ اذان سنتے ہی اپنے گھر سے نکل پڑتے تھے۔ مؤذن کے آخری کلمات کے ساتھ وہ مسجد میں داخل ہوجاتے ۔ یہ گویا خدا کی پکار پر فی الفور دوڑ پڑنا ہے۔ اور جس آدمی کا یہ حال ہوکہ وہ خدا کی پکار پر فوراً دوڑ پڑے تو لوگ بھی اس کی طرف دوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ اسی طرح امام صاحب کی عادت تھی کہ وہ ہمیشہ سلام میں پہل کرتے تھے۔ بہت ہی کم ایسا ہوتا تھا کہ کوئی شخص سلام کرنے میں ان پر سبقت لے جائے ۔ جو شخص اس طرح لوگوں کو سلام کرنے لگے ، وہ گویا لوگوں کے حق میں اپنے جذبہ محبت کا اظہار کرتا ہے ۔ اور جس آدمی کے دل میں دوسروں کے لیے محبت ہو دوسرے لوگ بھی اس سے محبت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔
امام صاحب کی ایک اور صفت یہ تھی کہ وہ کبھی کسی سے سوال نہیں کرتے تھے ۔ وہ اپنی آمدنی کے بقدر نہایت سادگی اور قناعت کی زندگی گزارتے تھے۔ یہ طریقہ بھی اپنے اندر بے پناہ کشش رکھتا ہے ۔ دوسروں سے سوال کرنے والا دوسروں سے چھوٹا بن جاتا ہے ۔ اور جو شخص دوسروں سے سوال نہ کرے، وہ دوسروں کو اپنے سے بڑا دکھائی دینے لگے گا ۔
امام صاحب کی ایک عادت یہ تھی کہ وہ صرف بقدر ضرورت کلام کرتے تھے ۔ وہ دوسروں کی بات زیادہ سنتے اور خود کم بولتے، اور جو کچھ بولتے ، سوچ سمجھ کر بولتے ۔ یہ بھی ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ کم بولنا آدمی کو باوزن بناتا ہے اور زیادہ بولنا آدمی کو ہلکا کر دیتا ہے ۔ یہ اصول سب کے سب نہایت سادہ اصول ہیں ۔ وہ بظاہر بہت معمولی ہیں۔ مگر وہ جس انسان کے اندر پیدا ہوجائیں ، اس کو وہ غیر معمولی انسان بنا دیتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1991 All issues