نظر انداز کرو
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۱، صفحہ ۷
نظر انداز کرو
سرپرسی کا کس (Sir Percy Cox) ایک انگریز تھا۔ وہ ۱۸۶۴ میں پیدا ہوا، اور ۱۹۳۷ میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ ۱۸۸۸ سے ۱۸۹۰ تک برٹش فوجی افسر کی حیثیت سے انڈیا میں رہا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد عراق برٹش مینڈیٹ کے تحت آگیا۔ اس کے بعد کاکس کو ۱۹۲۰ میں عراق بھیجا گیا۔ وہ وہاں برٹش ہائی کمشنر کی حیثیت سے ۱۹۲۳ تک مقیم رہا۔
سرپسی کاکس کا قیام بغداد میں تھا۔ ایک روز صبح کو وہ اپنی رہائش گاہ میں تھا کہ صبح کے وقت قریب کی مسجد سے آواز سنائی دینے لگی۔ یہ موذن کی آواز تھی جو فجر کی اذان پکار رہا تھا۔ کاکس کے لیے یہ ایک نئی آواز تھی جو اس نے اب تک نہیں سنی تھی۔ اس کو اندیشہ ہوا کہ یہ باغیوں کا کوئی گروہ تو نہیں ہے جو نعرہ لگا رہا ہے۔ اس نے اپنے آدمی کو بلا کر پوچھا کہ یہ کیسی آواز ہے۔ بتانے والے نے بتایا کہ یہ مسلمانوں کی اذان ہے۔ وہ روزانہ اپنی مسجد میں اسی طرح اذان پکارتے ہیں تاکہ لوگ اس کو سن کر مسجد میں نماز کے لیے آجاتیں ۔
سرپسی کاکس نے سنجیدہ لہجہ میں پوچھا کہ اس سے ہمارے ایمپائر کو کوئی خطرہ تو نہیں۔ بتایا گیا کہ نہیں۔ اس نے جواب دیا : پھر انہیں چھوڑ دو، وہ جو کر رہے ہیں کرتے رہیں ۔ میں کہوں گا کہ مسلمانوں کو یہی پالیسی سڑک کے نعروں کے بارے میں اختیار کرنا چاہیے۔ دوسرے فرقہ کے لوگ جلوس نکالتے ہیں۔ اس میں وہ " دل آزار نعرے " لگاتے ہیں ۔ کوئی فرقہ پرست لیڈر پارک میں جلسہ کر کے " اشتعال انگیز " الفاظ بولتا ہے۔ اس سے مسلمان بھڑک کر کارروائی کرتے ہیں اور اس کے بعد فساد ہو جاتا ہے۔
ایسے مواقع پر مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ سوچیں کہ کیا یہ الفاظ ان کے لیے کوئی عملی خطرہ ہیں۔ کیا وہ انہیں کوئی جسمانی یا مادی نقصان ہو پہنچا رہے ہیں۔ مسلمان جب اس طرح سوچیں گے تو انہیں معلوم ہوگا کہ اس قسم کے الفاظ ان کے لیے کوئی عملی خطرہ نہیں۔ یہ معلوم ہونے کے بعد انہیں چاہیے کہ سر کاکس کی طرح وہ کہہ دیں : پھر انہیں چھوڑ دو، وہ جو کچھ بولتے ہیں بولتے رہیں۔ ہم تو ان کو نظر انداز کر کے اپنا تعمیری کام جاری رکھیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1991 All issues