ایک آزمائش
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۱، صفحہ ۱۴
اب آدمی کی ساری دل چسپی اس کی اپنی اختیار کردہ چیز سے ہو جاتی ہے۔ اپنی مخصوص نفسیات کی بنا پر وہ اس فرضی یقین میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ وہ معاملہ کا سرا پکڑے ہوئے ہے۔ حالانکہ اس کے ہاتھ میں صرف ایک بے حقیقت تنکا ہوتا ہے جو طوفان کے پہلے ہی جھٹکے میں اس سے جدا ہو جائے۔ اسی لیے قرآن میں کہا گیا ہے کہ ہر انسان اپنے شاکلہ پر عمل کرتا ہے ، اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون شخص زیادہ صحیح راستہ پر ہے (الاسراء 84) اس آیت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اپنے ذاتی شاکلہ میں اپنے آپ کو پوری طرح برسر حق سمجھے مگر وہ اللہ کے نزدیک بر سر حق نہ ہو۔ ایسے لوگ آخرت میں بے حقیقت ہو کر رہ جائیں گے۔
انسان کی یہ پیدائشی کمزوری جس طرح عام انسانوں کے لیے فتنہ ہے اسی طرح وہ امت مسلمہ کے افراد کے لیے بھی فتنہ ہے۔ امت مسلمہ کا معاملہ اس نام آزمائش سے مستثنی نہیں مسلمانوں کے درمیان بھی ایسا ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ دین کے ایک پہلو کو لے کر اس کو اپنا مرکز توجہ بنالیں ، اور پھر دین کے دوسرے تمام تقاضے ان کے فوکس سے باہر نکل جائیں ۔ ایسے لوگوں کا سارا دھیان بس ایک چیز پر جم کر رہ جائے ۔
قرآن و حدیث کے معیار کے مطابق ، وہ ایک خود ساختہ دین پر ہوں گے۔ مگر اپنے ذاتی ذہن کے اعتبار سے وہ یہی خیال کریں گے کہ وہ کامل حق پر ہیں ، کیونکہ ان کا ذہن انہیں بتا رہا ہوگا کہ انھوں نے دین کے سب سے اہم حصہ کو پکڑ رکھا ہے۔
یہ ایک انتہائی نازک آزمائش ہے جس میں ہر شخص مبتلا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کے الفاظ ہر ایک کو یہ چتیادنی دے رہے ہیں کہ۔ ہو گیا میں تم کو آگاہ کروں کہ اپنے اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ گھاٹے میں کون لوگ ہیں۔ وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں اکارت ہوگئی ۔ اور وہ سمجھنے رہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں (الکہف)
اس امتحان سے بچنے کا واحد ذریعہ احتساب خویش ہے۔ یعنی اپنے مزاج کو کسوٹی نہ سمجھنا بلکہ قرآن و سنت کو دین کی کسوٹی قرار دے کر اپنے آپ کو اس پر جانچتے رہنا۔ جو آدمی اس طرح بے رحمانہ احتساب نہ کرے وہ اپنے آپ کو اس خطرہ میں مبتلا کر رہا ہے کہ آخرت میں اس پر کھلے گا کہ وہ محض ایک خود ساختہ دین پر تھا، اگرچہ نادانی کی بنا پر وہ اپنے آپ کو خدا کے مطلوب دین پر سمجھتا رہا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1991 All issues