ایک آزمائش
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۱، صفحہ ۱۳
ایک آزمائش
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے کسی کے سینہ میں دو دل نہیں بنائے (الاحزاب (۴) اس سے انسان کی ایک پیدائشی کمزوری معلوم ہوتی ہے۔ وہ کمزوری یہ ہے کہ انسان بیک وقت دو چیزوں پر دھیان نہیں دے سکتا۔ آدمی صرف ایک چیز کو اپنا مرکز توجہ بنا سکتا ہے۔ جب بھی وہ ایک چیز پر فوکس کرے گا تو دوسری چیزیں لازمی طور پر اس کے فوکس سے باہر (out of focus) ہو جائیں گی۔ انسان کی یہ صفت انسان کے لیے ایک بے حد نازک آزمائش ہے۔ اپنے حالات یا اپنے ذوق کے لحاظ سے وہ ایک چیز کو اختیار کرتا ہے۔ اس کے یک قلبی مزاج کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ وہی ایک چیز اس کو ساری چیز نظر آنے لگتی ہے۔ بقیہ چیزیں، خارجی طور پر موجود ہوتے ہوئے بھی، اس کے اپنے علم میں غیر موجود ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنی اس سوچ میں پختہ ہوتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ اسی ایک چیز کو وہ سب سے اعلیٰ چیز سمجھ لیتا ہے جس پر ابتداً اڑ اس نے اپنی نظروں کو جمایا تھا۔ یہ ایک نازک صورت حال ہے جس میں ہر انسان مبتلا ہے۔ اپنے فطری مزاج کی بنا پر چونکہ دوسری چیزیں آدمی کے فوکس میں نہیں ہوتیں اس لیے بقیہ چیزوں کی حیثیت اس کے نزدیک ایسی ہو جاتی ہے گویا کہ ان کی کوئی اہمیت نہیں، بلکہ شاید ان کا کوئی وجود ہی نہیں۔ انسان کی اسی پیدائشی ساخت کی بنا پر اس کے اندر وہ کمزوری پیدا ہوتی ہے جس کے متعلق قرآن میں کہا گیا ہے کہ شیطان نے لوگوں کے لیے ان کے کاموں کو ان کی نظر میں خوب صورت بنا دیا ہے (النحل (۶۳) اسی طرح فرمایا کہ لوگ ناپسندیدہ کام میں مشغول ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں (الکہف ۱۰۴) دوسری جگہ فرمایا کہ لوگ دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں اور پھر بطور خود اس کے کسی جزو کو لے کر خوش ہوتے ہیں کہ وہ اصل دین کو یکڑے ہوئے ہیں (الروم (۳۲) کسی انسان کے ساتھ اس قسم کی تباہ کن صورت حال کیوں پیش آتی ہے۔ اس کا سبب اس کی یہی مزاجی کیفیت ہے۔ وہ جب ایک بار کسی چیز کو اپنا لیتا ہے تو اس کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ اس ایک چیز کے علاوہ دوسری تمام چیزیں اپنے آپ اس کے لیے اوجھل (آؤٹ آف فوکس) ہو جاتی ہیں۔ وہ موجود ہوتے ہوئے بھی اس کے اپنے لیے ایسی بن جاتی ہیں گویا کہ وہ موجود ہی نہ ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1991 All issues