Al-Risala · October 1991 · page 26

سیاست، دعوت

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۶

پیغام رحمت کو تمام قوموں تک پہنچائیں۔ مگر مسلمانوں سے اس کے بالکل برعکس عمل کیا۔ انھوں نے اسلام کے پیغام رسانی کے کام کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔ اور نام نہاد سیاسی جہاد میں ہر تن مشغول ہو گئے۔ حتی کہ ان کا یہ حال ہوا کہ ان کے بڑے بڑے رہنماؤں تک کو شعور کے درجہ میں بھی اس کا احساس نہ رہا کہ اسلام کی دعوت بھی کوئی کام ہے جس کے لئے انھیں دوسری قوموں کے درمیان متحرک ہونا چاہئے۔ آج کوئی مسلم جماعت تو در کنار ، پوری مسلم دنیا میں کوئی قابلِ ذکر فرد بھی نہیں جس کو حقیقی طور پر دعوت الی اللہ کا شعور ہو، اور وہ اس اہم ترین کام میں فی الواقع اپنے آپ کو لگائے ہوئے ہو۔ حضرت یونس علیہ السلام نے دعوت الی اللہ کے معاملہ میں جزئی اور اجتہادی کوتاہی ہوئی تھی۔ اس کے نتیجہ میں وہ مچھلی کے پیٹ میں ڈال دئے گئے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے یہی کوتاہی مکمل طور پر اور بدترین طور پر کی ہے۔ یہ بلاشبہ اللہ کی ناراضگی کی بات ہے، چنانچہ موجودہ زمانہ میں پوری ملت مسلمہ مسائل کے پیٹ میں ڈال دی گئی ۔ مسائل کی مچھلی نے ان کو نگل رکھا ہے۔ یہ حالت کسی ایک ملک کی نہیں۔ ہندوستان ، پاکستان، بلادِ عربیہ، اور دوسرے تمام علاقوں کے مسلمان مسائل کے شکنجہ میں گرفتار ہیں۔ ان کی ہر کوشش اس کی شدت میں اضافہ کر رہی ہے، وہ اس میں کوئی کمی نہیں کرتی۔ " مسائل کی مچھلی" کے پیٹ سے نکلنے کی ایک ہی صورت ہے۔ مسلمان اپنی غلطی کا اعتراف کریں۔ وہ اللہ کی طرف رجوع ہوں۔ وہ دوسری قوموں کو حریف اور رقیب سمجھنے کا مزاج ختم کریں۔ وہ ان سے مدعو والا معاملہ کریں۔ وہ ان کے اوپر دعوت الی اللہ کی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔ یہی مسائل کے پیٹ سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسرا راستہ نہیں، جو انھیں اس گرفتاری سے نجات دینے والا ہو۔

ارکانِ اسلام کیسٹ ا۔ حقیقت ایمان ۲۔ حقیقت نماز ۳۔ حقیقت روزه ۴- حقیقت زکوۃ ۵۔ حقیقت حج قیمت فی کیسٹ ۲۵ روپیہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 1991 All issues

Printed page