سجدہ فطرت
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۷
سجدہ فطرت
اس صفحہ کے نیچے ایک تصویر دی جارہی ہے۔ اس میں ایک آدمی "سجدہ" کی حالت میں نظر آتا ہے۔ مگر یہ مسجد کا یا نماز کا سجدہ نہیں ہے بلکہ فطرت کا سجدہ ہے۔ یہ ہندوستانی پارلیمنٹ کے نئے ممبر سباش چندر نائیک ہیں۔ ۹ جولائی ۱۹۹۱ کو جب وہ پہلی بار پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تو اس کی سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے ان کے اندر غیر معمولی طور پر احترام کا جذبہ ابھرا۔ وہ بے تابانہ طور پر پارلیمنٹ کے سامنے سجدہ کی مانند گر پڑے ۔
سجدہ کی حالت آخری سپردگی کی حالت ہے۔ انسان کے اندر جب کسی چیز کے لئے تسلیم و سپردگی کا جذبہ کامل طور پر پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنے آپ کو اس چیز کے آگے ڈال دینا چاہتا ہے ، اس وقت اس کا جسمانی وجود جس آخری حالت میں ڈھل جاتا ہے وہی سجدہ ہے۔ سجدہ کی حالت سپردگی کی آخری حالت ہے ، اس کے بعد علی سپردگی کا اور کوئی درجہ نہیں۔ سجدہ کی حالت میں اپنے آپ کو پہنچا کر انسان اس احساس سے دوچار ہوتا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو آخری حد تک حوالہ کئے جانے والے کے آگے حوالہ کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی انسان کے اندر کامل سپردگی کی خواہش ابھرتی ہے تو وہ فوراً سجدہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1991 All issues