قرآن کا فلسفہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۹
قرآن کا فلسفہ
غالباً ۱۹۷۰ء کی بات ہے۔ میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی جو ایک یونی ورسٹی میں فلسفہ کے پروفیسر تھے۔ اسلام کے فلسفیانہ فکر پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسلام میں ثانوی عقلیت (secondary rationalism) ہے۔ اسلام میں ابتدائی عقلیت (primary rationalism) نہیں۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ اسلامی فکر کا آغاز وحی کے عقیدہ سے ہوتا ہے۔ آدمی پیشگی طور پر وحی کو مسلمہ صداقت مان کر سوچنا شروع کرتا ہے۔ جب کہ عام انسانی فلسفہ میں کوئی چیز پیشگی مسلمہ کے طور پر نہیں مانی جاتی۔ بلکہ تحقیق و جستجو کے بعد جو بات ثابت ہوتی ہے اس کو تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کی بات بطور واقعہ درست ہے۔ مگر میں اس میں یہ اضافہ کروں گا کہ اس دنیا میں انسان کے لیے ثانوی عقلیت ہی ممکن ہے۔ ابتدائی عقلیت موجودہ دنیا میں انسان کے لیے قابلِ عمل اور قابلِ حصول نہیں۔
ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم کو صرف محدود عقلی صلاحیت حاصل ہے۔ حقائق کی کائنات لامحدود ہے اور اس کے مقابلہ میں انسان کی عقل انتہائی محدود۔ اس لیے ابتدائی عقلیت کا اصول ایک دل پسند اصول تو ہو سکتا ہے مگر اس دنیا میں وہ قابلِ عمل اصول نہیں۔
خالص فنی اعتبار سے اسلام کی عقلیت اگرچہ ثانوی عقلیت ہے مگر وہ عام معنوں میں ادعائیت (dogmatism) کی قسم کی کوئی چیز نہیں۔ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ وہ حقیقت کے بارے میں ایک بیان (statement) دیتا ہے۔ اور اس کے بعد انسان سے یہ کہتا ہے کہ اس بیان کو واقعاتِ معلومہ (known facts) پر جانچ کر دیکھو۔ اگر تم پاؤ کہ یہ بیان واقعاتِ معلومہ سے مطابقت رکھتا ہے تو تم کو مان لینا چاہیے کہ یہ عین درست ہے۔
علم کیا ہے، اور انسان اس علم تک کس طرح پہنچتا ہے یا پہنچ سکتا ہے، اس سلسلہ میں جدید سائنس نے یہ اصول وضع کیا ہے کہ علم تک پہنچنے کے تین مرحلے ہیں :
۱۔ مشاہدہ (observation)
۲۔ مفروضہ (hypothesis)
‹ Previous page Next page › Contents of October 1991 All issues