Al-Risala · October 1991 · page 32

قرآن کا فلسفہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۲

دوسرے لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ عام انسانی فلسفے میں فکر کا آغاز تلاش (pursuit) سے ہوتا ہے۔ اس کے برعکس قرآنی فلسفے میں فکر کا آغاز یافت (finding) سے ہوتا ہے۔ قرآن ابتداً یہ دعویٰ یا علمی زبان میں مفروضہ پیش کرتا ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے اور اس کائنات کا ایک انجام ہے۔ اس کے بعد قرآن تخلیقی دنیا کے مختلف شواہد (آیات) انسان کے سامنے لاتا ہے۔ اور انسان سے کہتا ہے کہ ان شواہد پر غور کرو اور دیکھو کہ کیا یہ شواہد قرآن کے دعوے کی تصدیق کرتے ہیں۔ اب تک کے تجربات بتاتے ہیں کہ کائنات کے تمام حقائق معلومہ (known facts) قرآن کے بیان کی تصدیق کر رہے ہیں۔ کوئی بھی معلوم حقیقت ایسی نہیں جو قرآن کے بیان سے ٹکرانے والی ہو یا اس کو مشتبہ ثابت کرتی ہو۔

اس کی ایک مثال لیجیے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ میں یہ اعلان کیا کہ مجھ پر خدا نے اپنے فرشتے کے ذریعہ وحی بھیجی ہے۔ اس پر مکہ کے لوگوں نے کہا کہ ہم تمہاری بات کو صرف اس وقت مانیں گے جب کہ ہم اپنی آنکھ سے دیکھیں کہ فرشتہ خدا کی وحی لے کر آسمان سے تمہارے پاس آ رہا ہے۔ اس کے جواب میں قرآن میں کہا گیا کہ لوگ تم سے وحی کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ وحی خدا کے حکم سے ہے اور تم کو صرف تھوڑا علم دیا گیا ہے (بنی اسرائیل ۸۵)

دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ تھا کہ مکہ کے لوگ پیغمبر اسلام کے دعوے رسالت پر براہ راست دلیل مانگ رہے تھے۔ مگر قرآن نے یہ جواب دیا کہ تم اس معاملہ کو بالواسطہ دلیل یا استنباطی دلیل کے ذریعہ ہی سمجھ سکتے ہو۔ کیونکہ تم اپنی محدودیت کی وجہ سے اس معاملہ میں براہ راست دلیل کا تحمل نہیں کر سکتے۔

یہ معاملہ اسی طرح متنازعہ صورت میں تاریخ میں چلتا رہا۔ یہاں تک کہ ۱۹ ویں صدی میں سائنسی ذرائع کی دریافت کے بعد جدید مفکرین نے مزید یقین کے ساتھ یہ اعلان کر دیا کہ ہمیں کسی معاملہ میں بالواسطہ یا استنباطی استدلال پر قانع رہنے کی ضرورت نہیں۔ ہم جدید ذرائع کی مدد سے تمام امور پر براہ راست دلیل قائم کر سکتے ہیں۔

مگر بیسویں صدی کی تحقیقات نے آخری طور پر قرآن کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا۔ اس نے یہ ثابت کر دیا کہ انسان کی ذہنی محدودیت فیصلہ کن طور پر اس راہ میں حائل ہے کہ وہ کسی بھی حقیقت پر

‹ Previous page Next page › Contents of October 1991 All issues

Printed page