قرآن کا فلسفہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۱
براہ راست دلیل قائم کر سکے ۔ چنانچہ بیسویں صدی کے نصف آخر میں متفقہ طور پر مان لیا گیا کہ بالواسطہ یا استنباطی استدلالات عین معقول استدلال (valid arguments) ہے ، بشرطیکہ وہ ثابت شدہ مشاہدات پر مبنی ہو اور تمام متعلق مشاہدات کی زیادہ بہتر توجیہہ کرتا ہو ۔
مثال کے طور پر نظریہ ٔار تقاءءءءء (Evolution theory) کو اسی بنا پر سائنس دانوں کے درمیان عمومی قبولیت (general acceptance) کا درجہ حاصل ہو گیا تھا۔ حتی کہ کچھ لوگوں نے اس کو ثابت شدہ حقیقت (proved fact) کہنا شروع کر دیا۔ حالانکہ ارتقا کا نظریہ اتنے لمبے ماضی سے تعلق رکھتا ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اس کے عمل کا براہ راست مشاہدہ کیا جا سکے یا اس پر براہ راست دلیل قائم کی جائے ۔ ارتقا کا نظریہ تمام تر ایک استنباطی نظریہ ہے نہ کہ براہ راست مشاہدہ میں آنے والا نظریہ ۔
نظریہ ارتقا کیا ہے ۔ نظریہ ارتقا کا فارمولا چند لفظوں میں یہ ہے ۔ دوبارہ پیدائش، فرق اور فرق کا باقی رہنا :
Reproduction, Variation and Differential survival اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک حیوان کے یہاں توالد و تناسل سے بچے پیدا ہوئے ۔ ان میں باہم فرق تھا ۔ مثلاً کوئی چھوٹا تھا کوئی بڑا۔ بڑے بچے توالد و تناسل کے عمل کے تحت دوبارہ تھوڑا تھوڑا بڑے ہوتے چلے گئے ۔ یہاں تک کہ بکری کا بچہ لمبی مدت تک فرق جمع ہونے کے نتیجہ میں زرافہ بن گیا۔ ارتقا پسند عالم ایک طرف بکری کے ڈھانچہ کو دیکھتا ہے اور دوسری طرف زرافہ کے ڈھانچہ کو، اور پھر وہ فرض کر لیتا ہے کہ ان دونوں کے بیچ میں اور بہت سی نسلیں ہیں جو ان دونوں کو جوڑتی ہیں۔ گویا وہ دو چیزوں کی موجودگی سے تیسری چیز کی موجودگی کا قیاس کرتا ہے۔
اس سے قطع نظر کہ یہ نظریہ صحیح ہے یا غلط، منطقی اعتبار سے یہ استدلال سرا سر استنباطی استدلال ہے۔ اسی طرح کے استنباطی استدلال پر ان تمام نظریات کی بنیاد قائم ہے جن کو موجودہ زمانے میں سائنٹفک نظریات کہا جاتا ہے۔
سائنس کے حلقے میں جتنے بھی نظریات قائم کیے گئے ہیں وہ سب اسی طرح بالواسطہ استدلال پر مبنی ہیں۔ یہ نظریات اس وقت تک قائم رہتے ہیں جب تک کوئی نیا مشاہدہ سابقہ توجیہہ رحیا
‹ Previous page Next page › Contents of October 1991 All issues