الرسالہ، جنوری ۱۹۹۱، صفحہ ۳
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۱، صفحہ ۳
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر بإذن الله ۔ واللہ مع الصَّابِرین (البقرۃ ۲۴۹) غالب آئی ہیں، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی گروہ کا تعداد میں کم ہونا یا طاقت ور گروہ کی طرف سے زیادتیوں کا شکار ہونا اس کے لیے کوئی محرومی یا مایوسی کی بات نہیں۔ کیوں کہ اس دنیا کے خالق نے دنیا کے اندر جو مواقع رکھے ہیں وہ اس بات کو ممکن بناتے ہیں کہ کمزور گروہ خود طاقت ور گروہ پر غالب آجائے۔ ایسا کیونکر ہوتا ہے ۔ اس کا راز، آیت کے مطابق ، صبر ہے۔ جو لوگ صبر کے مراحل سے گزرتے ہیں، جو چیلنج سے دوچار ہوتے ہیں، جن کو زندہ رہنے کے لیے زیادہ محنت اور چو کسی کی ضرورت پیش آتی ہے وہ اس عمل کے دوران اس قابل ہو جاتے ہیں کہ وہ زیادہ تعداد اور زیادہ قوت والے گروہ کو مغلوب کر کے ان کے اوپر فتح حاصل کر لیں۔
کسی انسان یا کسی انسانی گروہ کے لیے صبر کا مرحلہ پیش آنا ایسا ہی ہے جیسے پانی کا حرارت سے سابقہ پیش آنا ۔ پانی کو جب گرمی پہنچائی جاتی ہے تو۔ ۔ درجہ سینٹی گریڈ پر پہنچ کر وہ ابلنے لگتا ہے۔ اس کے مالیکیول ٹوٹ کر منتشر ہونے لگتے ہیں جس کو بھاپ کہا جاتا ہے۔ اس طرح حرارت پانی کے ذخیرہ کو پانی کے بجائے گیس میں تبدیل کر دیتی ہے۔ گیس کی صورت اختیار کرنے کے بعد پانی اتنا طاقتور ہو جاتا ہے کہ وہ بڑی بڑی مشینوں کو متحرک کر دیتا ہے۔ پانی گیس بننے کے بعد وہ کارنامہ انجام دیتا ہے جو عام پانی کبھی انجام نہیں دے سکتا تھا۔ اسی طرح جب کسی فرد یا گروہ کے ساتھ صبر آزما حالات پیش آئیں، اس کے وجود کو چیلنج کیا جانے لگے تو اس کی شخصیت میں ایک انفجار پیدا ہوتا ہے، اس کی چھپی ہوئی صلاحیتیں ابھرنے لگتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ ”پانی“ کے درجہ سے اٹھ کر ”بھاپ“ کے درجہ میں پہنچ جاتا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی کسی گروہ کو صبر والے حالات سے سابقہ پیش آیا تو اس کے امکانات جاگ اٹھے۔ وہ ایک ناقابل تسخیر طاقت بن کر ابھر آیا۔ صبر نے اس کو معمولی انسان کے درجہ سے اٹھا کر غیر معمولی انسان بنا دیا۔ صبر نے اس کو اس قابل بنا دیا کہ وہ اپنے سے زیادہ اور اپنے سے طاقت ور لوگوں پر بھی غلبہ حاصل کر لے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1991 All issues