قرآن کا فلسفہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۳
ایک مشہود واقعہ اس کی موجودگی کا قرینہ پیش کر رہا تھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس نے "کو دیکھ کر "گرانے والے" کا اقرار کر لیا۔ اصولی طور پر ، ٹھیک یہی طریقہ استدلال قرآن میں بھی اختیار کیا گیا ہے۔ قرآن بھی یہی کرتا ہے کہ وہ مشہود حقائق سے غیبی حقائق پر دلیل قائم کرتا ہے۔ وہ واقعہ کی بنیاد پر صاحب واقعہ کو ماننے کی دعوت دیتا ہے۔
اس طرز استدلال کی ایک مثال قرآن میں یہ ہے : أَفَعَيِينا بالخلق الاول بل هم في لبس من خلق جدید (کیا ہم پہلی بار پیدا کرنے سے عاجز رہے ، بلکہ یہ لوگ از سرِ نو پیدا کرنے کی طرف سے شبہ میں ہیں) ۵۱/۵۰ سورہ ق کی اس آیت میں تخلیق اول سے تخلیق ثانی پر استدلال کیا گیا ہے۔ اس استدلال کی منطق یہ ہے کہ پہلے زندگی بعد موت کا "دعویٰ" پیش کیا گیا۔ اس کے بعد زندگی قبل موت کا مشاہدہ سامنے لایا گیا۔ اور پھر کہا گیا کہ جب پہلی بار بے زندگی سے زندگی کا وجود میں آنا ممکن تھا تو دوسری بار بے زندگی سے زندگی کا وجود میں آنا کیوں ناممکن ہوگا۔
انسان خود اپنے وجود کی صورت میں اور دوسرے بے شمار انسانوں کی موجودگی کی صورت میں پہلی تخلیق کا تجربہ کر رہا ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ انسان ایک مکمل وجود کے طور پر پہلی بار دنیا میں آتا ہے۔ اس کے بعد وہ مڑ کر دوبارہ اپنی قبل از پیدائش حالت کی طرف واپس چلا جاتا ہے۔ گویا کہ انسان حالتِ موت سے حالتِ زندگی میں آیا۔ اور اس کے بعد پھر حالتِ موت میں چلا گیا۔ اب اگر ایک بار حالتِ موت سے حالتِ زندگی میں آنا ممکن تھا تو دوسری بار حالتِ موت سے حالتِ زندگی میں آنا کیوں ناممکن ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلی بار زندگی کا ثابت ہونا، دوسری بار زندگی کو اپنے آپ ثابت کر دیتا ہے۔
برٹرینڈ رسل ایک ملحد فلسفی ہے۔ مگر اس نے بالواسطہ طور پر اس واقعہ کا اعتراف کیا ہے، اس نے لکھا ہے کہ اہلِ مذاہب کے دلائل میں کم از کم ایک دلیل ایسی ہے جس کو منطقی دلیل (logical argument) کہا جا سکتا ہے۔ یہ نظم کے ذریعہ استدلال (argument from design) ہے جس سے خدا کے وجود کو ثابت کیا جاتا ہے ، یعنی جب دنیا میں نظم ہے تو لازم ہے کہ اس کا ایک ناظم بھی ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1991 All issues