Al-Risala · November 1991 · page 6

سادہ پہچان

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۶

سادہ پہچان

عن انس بن مالك ، عن النبی صلى الله انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : لا يؤمن احدکم علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا حتیٰ يحب لأخيه ما يحب لنفسه جب تک اس کا یہ حال نہ ہو جائے کہ وہ اپنے بھائی کے ( رواہ البخاری و مسلم) لیے وہی پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ ایک مسلمان کو دوسرے انسانوں کے لیے کیسا ہونا چاہیے، اس حدیث میں اس کی نہایت سادہ پہچان بتائی گئی ہے۔ وہ پہچان یہ ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کے لیے بھی وہی پسند کرنے لگے جو وہ خود اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

کسی آدمی کے ساتھ بد زبانی کی جائے تو اس کو برا لگے گا اور اگر اس کے ساتھ نرم بول بولے جائیں تو اس کو اچھا معلوم ہوگا۔ اسی ذاتی تجربہ کے مطابق وہ دوسروں پر بھی عمل کرے۔ وہ دوسروں کے ساتھ تلخ کلامی نہ کرے، وہ ہمیشہ ان کے ساتھ نرم انداز میں بات کرے۔

کسی کو اس کا جائز حق نہ دیا جائے تو وہ اس کو سخت نا پسند کرے گا۔ آدمی یہی معاملہ دوسروں کے ساتھ کرنے لگے۔ اس کے اوپر دوسروں کا جو حق ہے اس کو وہ ادا کرے، وہ دوسروں کی حق تلفی سے آخری حد تک اپنے آپ کو بچائے۔

کسی کے ساتھ وعدہ کیا جائے اور پھر اس کو پورا نہ کیا جائے تو اس کو بے حد تکلیف پہنچے گی۔ آدمی اسی سے دوسروں کے بارہ میں سبق لے لے۔ وہ کسی سے وعدہ کرے تو ضرور اس کو پورا کرے، وہ کسی کے ساتھ وعدہ خلافی کا سلوک نہ کرے۔

کسی کو نقصان پہنچایا جائے تو اس کو فوراً غصہ آجاتا ہے۔ اس ذاتی تجربہ سے وہ دوسروں کے بارہ میں جان لے۔ وہ کبھی دوسروں کو نقصان پہنچنے نہ دے، وہ ہمیشہ یہ کوشش کرے کہ اس کی ذات دوسروں کے لیے نفع بخش ثابت ہو۔

مومن ایک حساس انسان ہوتا ہے۔ اس کی حساسیت اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ دوسروں کے حق میں ویسا ہی بنے جیسا وہ دوسروں کو اپنے حق میں دیکھنا چاہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues

Printed page