سادہ پہچان
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۷
دو طریقے
عن عبد الله بن عمرو و قال قال رسول الله عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ صلّى الله عليه وسلم : لا يؤمن أحدكم حتى علیہ وسلم نے فرمایا ۔ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا يكون هواه تبعاً لما جئت به یہاں تک کہ اس کی خواہش اس چیز کے تابع ہو جائے (مشکوۃ المصابیح ۵۹/۱)
جو میں لایا ہوں ۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں عمل کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے ھوی (اپنی خواہش) پر عمل کرنا، اور دوسرا ہے ما جاء بہ الرسول (پیغمبر کے لائے ہوئے دین پر عمل کرنا۔ آپ کے سامنے ایک حق آیا۔ آپ کے دل نے گواہی دی کہ یہ حق ہے۔ مگر اسی کے ساتھ شعوری یا غیرشعوری طور پر یہ احساس پیدا ہوا کہ اگر میں اس حق کا اعتراف کرلوں تو میرا درجہ نیچا ہو جائے گا۔ اب اگر آپ نے حق کو مان لیا تو آپ نے ما جاء بہ الرسول پر عمل کیا اور اگر آپ نے حق کا انکار کیا تو آپ نے اپنی ھویٰ کی پیروی کی۔
ایک شخص نے آپ کے اوپر تنقید کی۔ اس سے آپ کی انا کو چوٹ لگی۔ آپ برہم ہوگئے ۔ اسی کے ساتھ رسول کی لائی ہوئی شریعت کا یہ حکم آپ کے سامنے آیا کہ متکبر نہ بنو بلکہ متواضع بن کر لوگوں کے درمیان رہو۔ اب اگر آپ نے تنقید کے جواب میں تواضع کا انداز اختیار کیا تو آپ نے ما جاء بہ الرسول پر عمل کیا اور اگر آپ نے تنقید کے جواب میں گھمنڈ کا انداز اختیار کیا تو آپ نے ھوی کی پیروی کی۔ ایک شخص کے کسی رویہ سے آپ کو شکایت پیدا ہوئی ۔ آپ مشتعل ہوگئے ۔ اس وقت آپ کے سامنے شریعت کا یہ حکم آیا کہ لوگ اشتعال انگیزی کریں تب بھی تم صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کرو۔ اب اگر آپ نے اشتعال کے باوجود صبر کیا تو آپ نے ما جاء بہ الرسول پر عمل کیا۔ اور اگر آپ مشتعل ہو کر فریقِ ثانی سے لڑنے لگے تو آپ نے ھوی کی پیروی کی۔
یہی معاملہ پوری زندگی کا ہے ۔ ہر معاملہ جو آدمی کے ساتھ پیش آتا ہے، اس میں اس کے لیے دو میں سے ایک رویہ اختیار کرنے کا موقع ہوتا ہے۔ ایک رویہ اختیار کرنے کے بعد وہ خدا کے یہاں مومن لکھ دیا جاتا ہے اور دوسرا رویہ اختیار کرنے کے بعد غیر مومن۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues