Al-Risala · November 1991 · page 23

جنگ بے فائدہ

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۳

جنگ بے فائدہ

نپولین ۲۳ سال تک یورپی ملکوں سے جنگ لڑتا رہا۔ آخر کار انگلینڈ کے ڈیوک (Duke of Wellington) نے ۱۸ جون ۱۸۱۵ کو واٹر لو جنگ (Battle of Waterloo) میں نپولین بوناپارٹ کو شکست دی (X/570) ڈیوک کی یہ فتح اتنی عظیم تھی کہ اس کو "گریٹ ڈیوک" کہا جانے لگا۔ اس کی بابت لکھا گیا کہ واٹر لو کے مقام پر نپولین کو شکست دینے کے بعد وہ دنیا کے فاتح کو فتح کرنے والا بن گیا :

By defeating Napoleon at Waterloo he became the conqueror of the world's conqueror. (19/755)

ہر طرف ڈیوک کی تعریف کی جانے لگی۔ مگر خود ڈیوک جھوٹے فخر (false pride) کا شکار نہیں ہوا۔ اس کو اس بات کا شدید احساس تھا کہ اس فتح تک پہنچنے کے لئے اس کے اپنے ملک سمیت چار ملک تباہ ہو گئے ہیں۔ اس نے کہا کہ کوئی بھی چیز، ایک ہاری ہوئی جنگ کے سوا، ایک جیتی ہوئی جنگ کی غم ناکی کی آدھی غم ناک بھی نہیں ہو سکتی :

Nothing except a battle lost can be half so melancholy as a battle won. یہی ہر جنگ کا معاملہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ میں ہار جیت کے درمیان اتنا ہی فرق ہے کہ ہار کے ساتھ شرمندگی شامل ہوتی ہے، اور جیت کے ساتھ شرمندگی شامل نہیں ہوتی۔ ورنہ بربادی کے اعتبار سے جیت اور ہار دونوں تقریباً یکساں ہیں۔

دوسری عالمی جنگ میں برطانیہ فاتح بن کر نکلا۔ مگر اس کے نتیجہ میں وہ اتنا کمزور ہو گیا کہ اس کے اندر یہ طاقت نہیں رہی کہ وہ اپنے زیر قبضہ ملکوں پر اپنا کنٹرول قائم رکھ سکے۔ خلیج کی جنگ میں امریکہ نے بظاہر شاندار فتح حاصل کی۔ مگر مسلسل ایسی رپورٹیں اخباروں میں آرہی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کے لوگ نتیجہ جنگ کے معاملہ میں مایوسی کا شکار ہورہے ہیں۔

ہندوستان ٹائمز (۸ جون ۱۹۹۱) میں اس کے نمائندہ مقیم واشنگٹن، مسٹر این سی من کی رپورٹ

‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues

Printed page