Al-Risala · November 1991 · page 24

جنگ بے فائدہ

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۲۴

چھپی ہے۔ اس میں وہ بتاتے ہیں کہ امریکہ کے لوگ جنگ کے نتائج پر مطمئن نہیں۔ وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ امریکہ نے آخر خلیج کی جنگ سے کیا حاصل کیا :

Just what did the United States gain from the war? جب کسی سے اختلاف اور ٹکراؤ کی حالت پیش آتی ہے تو اس کا پر امن حل بھی وہیں موجود ہوتا ہے۔ مگر آدمی اکثر اوقات پر امن حل کو چھوڑ کر جنگ کے حل کی طرف دوڑتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ پرامن حل میں وہ اپنی کچھ چیزوں کو کھورہا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پر امن حل میں بظاہر جو نقصان ہے، اس سے بہت زیادہ نقصان وہ ہے جو جنگ کی صورت میں آدمی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

مثال کے طور پر خلیج کے بحران میں اگر کویت اس پر راضی ہو جاتا کہ وہ اپنا غیر آباد جزیرہ ور بہ (Warba Island) عراق کو پٹہ پر دیدے ، جیسا کہ عراق کا مطالبہ تھا ، تو یہ اس نقصان سے بہت کم تھا، جو جنگ کی صورت میں کویت کو اٹھانا پڑا۔ اسی طرح خود عراق اگر کویتی جزیرہ کے بارہ میں اپنے مطالبہ سے باز آ جاتا اور اپنی موجودہ جغرافی حالت پر قانع رہتا تو یہ اس کے لئے اس نقصان سے ہزاروں گنا کم ہوتا، جو جنگ کے بعد اس کے نتیجہ میں عراق کے حصہ میں آیا۔

انسان جب بھی کسی جنگ میں الجھتا ہے تو وہ جذباتی ہیجان کی حالت میں اس سے الجھتا ہے۔ اگر انسان ایسا کرے کہ ٹکراؤ پیش آنے کی صورت میں وہ رک کر ٹھنڈے دل سے غور کرے تو یقینی طور پر وہ جنگ کے مقابلہ میں امن کو ترجیح دے گا۔

جنگ کی طاقت ہتھیار ہے۔ مگر جس طرح فوج اور ہتھیار ایک طاقت ہے، اسی طرح امن کی تدبیر بھی ایک طاقت ہے۔ جس طرح ہتھیار دشمن کو زیر کرتا ہے۔ اسی طرح امن کی طاقت بھی دشمن کو زیر کرتی ہے۔ البتہ دونوں میں یہ فرق ہے کہ ہتھیار کو استعمال کرنا ہمیشہ تخریب کی قیمت پر ہوتا ہے، اور امن کی طاقت ایک تعمیری طاقت ہے۔ وہ اپنے آخری استعمال کے بعد بھی تعمیر ہی رہتی ہے۔ جنگ کی تدبیر اختیار کرنے سے نئے شدید تر مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ جب کہ پر امن تدبیر مسئلہ کو اس طرح حل کرتی ہے کہ وہ کوئی نیا مسئلہ پیدا ہونے نہیں دیتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues

Printed page