الحديبیہ
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۲
اپنے نظریہ کے حق میں استعمال کرتے ہیں تو ہمارے دانشور اور رہنما احتجاج شروع کر دیتے ہیں۔ اس قسم کا احتجاج صرف سطحیت ہے نہ کہ کوئی واقعی کام۔
ہمارا اعتماد اپنے نظریہ کی برتر قوت پر ہونا چاہیے نہ کہ دوسروں کی زبان بندی کرنے پر۔ دوسروں کی زبان بندی عملاً ممکن نہیں۔ البتہ ہم اپنے نظریہ کو ان کے دلوں میں داخل کر کے ان پر قابو پانے کی کوشش ضرور کر سکتے ہیں۔
موجودہ زمانہ آزادی فکر اور آزادی اظہار خیال کا زمانہ ہے۔ اس صورت حال نے اسلامی دعوت کے لیے نہایت اعلی موافق میدان پیدا کر دیا ہے۔ اس جدید امکان کو استعمال کر کے اسلام کی اشاعت کا کام بہت بڑے پیمانہ پر کیا جا سکتا ہے۔ مگر عملاً ابھی تک ایسا نہ ہو سکا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جب آزادی اظہار کا زمانہ آیا تو قدرتی طور پر وہ ہر ایک کے لیے آیا۔ چنانچہ ہر ایک نے اپنے اپنے خیال کو ظاہر کرنا شروع کر دیا۔ ان میں سے کچھ لوگوں کی باتیں مسلمانوں کے ذوق کے خلاف تھیں مسلمان بس انہیں کے خلاف چیخ و پکار کرنے میں مشغول ہو گئے۔ اس قسم کی چیخ و پکار سراسر بے فائدہ ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ مخالفانہ باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اسلام کی تعلیمات کو پھیلایا جائے۔ جدید امکانات کو اسلام کی دعوت کو عمومی بنانے کے لیے استعمال کیا جائے۔
اسلام کے مثبت پیغام کی اشاعت اسلام کے مخالفین کا زیادہ بہتر جواب ہے۔ اسلام کے سورج سے پردہ کا ہٹنا باطل کے اندھیرے کو اپنے آپ ختم کر دینے والا ہے۔ ارکان اسلام کیسٹ ۱۔ حقیقت ایمان ۲۔ حقیقت نماز ۳۔ حقیقت روزہ ۴۔ حقیقت زکوٰۃ ۵۔ حقیقت حج قیمت فی کیسٹ ۲۵ روپیہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues