الحديبیہ
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۱
صادق آتا ہے کہ اس امت کے بعد کے دور کے حالات بھی اسی سے درست ہوں گے جس سے اس کے دور اول کے حالات درست ہوئے تھے (لن يصلح آخر هذه الامة الا بماصلح به اولها) قرآن میں معاہدہ حدیبیہ کو فتح مبین (الفتح1) کہا گیا ہے۔ قال البخاري عن البراء قال: تعدون الفتح فتح مكة ونحن نعد الفتح يوم الحديبية معاہدہ حدیبیہ کیا ہے۔ معاہدہ حدیبیہ اپنی روح کے اعتبار سے یہ ہے کہ دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ مداخلت کی حد تک پابند کرکے بقیہ ہر اعتبار سے انھیں آزاد کر دیا جائے ۔ اس قسم کی آزادی جب قائم کی جائے گی تو ظاہر ہے کہ وہ صرف ایک فریق کے لئے نہیں ہوسکتی وہ لازماً دونوں فریقوں کے لئے ہوگی۔ چنانچہ یہی مسالمہ حدیبیہ کے وقت پیش آیا۔ اس میں اہل شرک پر جنگی اقدام کی ممانعت قائم کی گئی تو اہل اسلام بھی جنگی اقدام سے روک دئے گئے۔ اسی طرح اچھل اسلام کو امگر تبلیغ توحید کی آزادی ملی تو دوسرے فریق کو بھی یہ آزادی ملی کہ وہ شرک کی حمایت میں جو کچھ کہنا چاہیں کہیں۔ یہاں تک کہ انھیں یہ بھی آزادی ملی کہ لفظ رسول اللہ کو کاغذ پر مٹائیں۔ وہ کسی موحد اور مومن کو اپنے یہاں روک لیں، جیسا کہ انھوں نے ابو جندل کو روکا۔ وغیرہ اگر ہم ایک ایسی صورت حال قائم کرنا چاہتے ہیں، جو ہماری موافقت میں ہو، تو اس صورت حال کے قیام کے بعد دوسروں کو اس سے فائدہ اٹھانے سے روکا نہیں جاسکتا۔ موجودہ عالم اسباب میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ ہم اپنی اس خواہش کا اظہار بے جا احتجاج کی صورت میں کر سکتے ہیں۔ مگر ایسے احتجاج کی کوئی قیمت نہ ہوگی۔
مثال کے طور پر آزادی فکر کی صورت حال ہمارے لئے مفید ہے۔ کیوں کہ اسلام کی عمومی اشاعت اسی وقت ہوسکتی ہے جب کہ دنیا میں فکری آزادی کا ماحول موجود ہو۔ گر ہم ایسا نہیں کر سکتے کہ آزادی صرف ہمارے لئے ہو، وہ دوسروں کے لئے نہ ہو۔ حتی کہ یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ دوسرے لوگ اپنی آزادی کے حق کو ہماری مقرر کی ہوئی شرائط کے تحت استعمال کریں۔
یہ ایک سادہ سی بات ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم دانشور اور مسلم رہنما اس سادہ سی بات کو نہیں جانتے۔ جدید دنیا میں آزادی فکر اور آزادی اظہار خیال کے جو مواقع پیدا ہوئے ہیں ان کو ہم اپنے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ مگر جب دوسرے لوگ اس آزادی کو
‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues