الرساله سمپوزیم
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۴
لوگ فکری مباحثہ (intellectual discussion) کے لئے جمع ہوتے تھے۔ ان کے مذاق کے مطابق، ایسی مجلسوں میں تفریحی پروگرام بھی رکھے جاتے تھے۔ اس کو وہ لوگ سمپوزن (sumposion) کہتے تھے۔ یہی لفظ انگریزی میں اگر سمپوزیم بن گیا۔ موجودہ استعمال میں سمپوزیم کا لفظ ایسی کانفرنس کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی مخصوص موضوع پر بحث و مذاکرہ کے لئے منعقد کی گئی ہو: A conference organized for the discussion of some particular subject. پٹنہ کے الرسالہ سمپوزیم کا عنوان بحث تھا : الرسالہ ایک روشنی ، زندگی کی تعمیر میں الرسالہ کا رول۔ الرسالہ ریڈرس فورم جس کی طرف سے یہ سمپوزیم منعقد کیا گیا، اس فورم کے سرپرست (پیٹرن) جسٹس این پی سنگھ ہیں اور مسٹر ایم ٹی خان ، ایم اے اس کے کنوینر ہیں۔ سمپوزیم کا مقرر وقت صبح دس بجے تھا۔ مگر علاوہ ساڑھے دس بجے شروع ہو سکا۔ کنوینیر مسٹر ایم ٹی خان مائیک پر کھڑے ہوئے تو سب سے پہلے انھوں نے کہا کہ آدھ گھنٹے کی یہ تاخیر الرسالہ مشن کے اصول کے خلاف ہے۔ اس کا ہم اعتراف کرتے ہیں۔ اور آپ سے اس کو تاہی کی معافی چاہتے ہیں ۔ اس کے بعد کنوینرنے کہا کہ کچھ دیر بعد یہاں لوگوں کے مقالات پڑھے جائیں گے اور لوگوں کے تاثرات آپ کے سامنے آئیں گے۔ اس سلسلہ میں چند ضروری باتیں میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ مشن کو سمجھنے کے لئے چار خاص شرطیں (conditions) ہیں ۔ آپ براہ کرم اپنے اظہار خیال میں ان کو ملحوظ رکھیں۔ ۱۔ الرسالہ کے پیغام کو اس کے صحیح تناظر (perspective) میں لینے کے لئے غیر متاثر ذہن ہونا ضروری ہے۔ اگر ہم پیشگی تاثرات کے ساتھ الرسالہ مشن کو دیکھیں تو الرسالہ کے صفحات میں ہم اپنے آپ کو پڑھیں گے ، ہم الرسالہ کو نہیں پڑھ سکیں گے ۔ ۲۔ الرسالہ مشن کو سمجھنے کے لئے وہ انسان درکار ہے جو ڈبل اسٹینڈرڈ پالیسی پر راضی نہ ہو ۔ یعنی ذاتی زندگی میں ایک طریقہ پر عمل کرنا اور اجتماعی امور میں دوسرے طریقہ کی وکالت کرنا۔ انھوں نے کہا کہ دہرا پن (duality) کے ساتھ آپ واقعیت (actuality) کو نہیں سمجھ سکتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues