Al-Risala · November 1991 · page 35

الرساله سمپوزیم

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۱، صفحہ ۳۵

۳- تیسری چیز یہ کہ الرساله مشن کو سمجھنے کے لئے تقلیدی ذہن کے بجائے غیر تقلیدی ذہن ہونا ضروری ہے۔ تقلید پر مبنی (Tradition-based) سوچ رکھنے والا آدمی تعقل پر مبنی (Reason-based) پیغام کو سمجھنے سے عاجز رہتا ہے۔

۴۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ الرسالہ کے پیغام کو اس کے جامع انداز (integrated way) میں لیں، آپ اس کو متفرق انداز (segregated way) میں نہ لیں۔ کسی کسی بھی پیغام کو اس کے کامل ڈھانچہ ہی میں رکھ کر سمجھا جا سکتا ہے نہ کہ منقسم ڈھانچہ میں۔ اس کے بعد کنوینر نے کہا کہ ہر اصول کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ جسٹسٹس طرح اصول مطلوب ہوتا ہے اسی طرح اس کے تقاضے بھی لازمی طور پر مطلوب ہوتے ہیں۔ تقاضوں کو چھوڑنے کے بعد اصول بے معنی ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اپنے حق (right) کو پانے کے لئے تحمل (restraint) کا اہتمام ضروری ہے۔ آدمی کو حق ہے کہ وہ اپنی چیز کو حاصل کرے مگر حاصل کرنے کی جد و جہد کے دوران تحمل کے اصول کو پکڑے رہنا ضروری ہوگا۔ ورنہ حق دار ہونے کے باوجود آدمی اپنے حق کو پانے سے محروم رہے گا۔

اس تمہیدی تقریر کے بعد لوگوں کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔ سب سے پہلے جس این پی سنگھ کا پیغام پڑھاگیا۔ وہ سمپوزیم میں بحیثیت صدر شریک ہونے والے تھے مگر اچانک سرکاری ضرورت پیش آنے کی وجہ سے ان کو رانچی جانا پڑا۔ چنانچہ ڈاکٹر شری نواس نے سمپوزیم کی صدارت کی۔ جس سنگھ نے اپنا تحریری پیغام بھیج دیا تھا۔ ان کے پیغام کا ایک حصہ یہ تھا : A serious reader of Al-Risala can take a great benefit from Maulana's manifestations by becoming quick in precision, broad in vision and fresh in approach. اس کے علاوہ اور بھی کئی صاحبان کے پیغامات پڑھے گئے۔ انھوں نے اپنے پیغام میں یہ کہا تھا کہ وہ الرسالہ کے قاری ہیں۔ اور اس کے پیغام سے اتفاق رکھتے ہیں۔ یہی قوم اور ملک کی ترقی کا راستہ ہے۔ ان حضرات کے نام یہ ہیں :

ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی ، مارواڑی کالج، بھاگل پور محمد مصباح الزماں ، پرنسپل ایم اے ہائی اسکول ، پٹنہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 1991 All issues

Printed page