Al-Risala · February 1991 · page 3

شیر دیکھ رہا ہے

الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۳

شیر دیکھ رہا ہے

جم کاربٹ (Jim Corbett) ایک انگریز تھا۔ وہ ۱۹۰۷ء میں ہندوستان آیا۔ اس کو معلوم ہوا کہ کما یوں (یوپی) کے جنگلوں میں بہت سے مردم خور شیر ہیں، وہ اپنی رائفل لے کر کما یوں کے جنگل میں پہنچ گیا۔ ۱۹۰۷ء میں اس نے پہلے مردم خور شیر کو اپنی گولی کا نشانہ بنایا جو ۳۰ ۴ آدمیوں کو مار چکا تھا۔ جم کاربٹ نے کما یوں کے جنگلوں میں ۲۲ سال گزارے۔ اس نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر ایک درجن سے زیادہ مردم خور شیروں کو ہلاک کیا۔ اس جان جوکھم کام کا واحد انعام، جم کاربٹ کی یہ روحانی تسکین تھی کہ وہ زمین کے ایک چھوٹے سے حصہ کو اس قابل بنائے کہ ایک لڑکی محفوظ طور پر وہاں چل سکے : Satisfaction at having made a small portion of the earth safe for a girl to walk on. جم کاربٹ نے اپنی کتاب کما یوں کے مردم خور شیر (Man-eaters of Kumaon) میں اپنے ان تجربات کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے جو مردم خور شیروں کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے پیش آئے۔ ایک موقع پر اس نے لکھا ہے کہ دن کی روشنی میں بھی شیر کی قربت، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ اس نے آپ کو دیکھانہ ہو، خون کی گردش میں ہیجان پیدا کر دیتی ہے۔ پھر جب شیرایک عام شیر نہ ہو، بلکہ وہ مردم خور شیر ہو، تاریک رات کے ۱۰ بجے ہوں، اور آپ جانتے ہوں کہ مردم خور شیر آپ کو دیکھ رہا ہے، اس وقت خون کی گردش ایک طوفان کی صورت اختیار کرلیتی ہے :

The near proximity of a tiger in daylight, even when it has not seen you, causes a disturbance in the bloodstream. When the tiger is not an ordinary one, however, but a man-eater and the time is ten o'clock on a dark night, and you know the man-eater is watching you, the distur- bance in the blood becomes a storm. یہ احساس کہ شیر میرے قریب ہے اور وہ مجھ کو دیکھ رہا ہے، آدمی کے خون میں طوفان برپا کر دیتا ہے۔ پھر اس انسان کا کیا حال ہوگا جس کے اندر یہ یقین آجاۓ کہ وہ خدا جو تمام شیروں کا اور تمام زمین و آسمان کا خالق ہے، وہ میرے قریب ہے اور مجھ کو اس طرح دیکھ رہا ہے کہ میری کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں رہ سکتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues

Printed page