Al-Risala · February 1991 · page 4

نبی رحمت کا طریقہ

الرسالہ، فروری ۱۹۹۱، صفحہ ۴

نبی رحمت کا طریقہ

فتح مکہ کے بعد مکہ کی بہت سی عورتوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اسلام قبول کیا۔ انھیں میں سے ایک ابو سفیان کی بیوی ہند بنت عقبہ بن ربیعہ تھی۔ یہ وہی عورت ہے جس نے احد کی جنگ میں حضرت حمزہ کی لاش کی بے حرمتی کی تھی۔ وہ کئی عورتوں کے ساتھ آئی۔ اس نے کہا کہ اگر میں نے محمدؐ کے سامنے کلام کیا تو وہ پہچان لیں گے، اور اگر انھوں نے پہچان لیا تو وہ مجھے قتل کر دیں گے ( فقالت انی ان اتكلم يعرفني وان عرفني قتلنی)۔

چنانچہ بیعت کے وقت ہند نے نقاب سے اپنا چہرہ چھپالیا۔ مگر وہ اونچے خاندان کی عورت تھی، اس لیے وہ اپنی بڑائی کے احساس سے چپ نہ رہ سکی۔ بیعت کے الفاظ ادا کراتے ہوئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا کہ یوں کہو کہ ہم اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گے ( ولا نقتل اولادنا) تو ہند نے بے برداشت ہو کر گستاخی کے الفاظ کہے۔ اس کے الفاظ مختلف روایتوں میں اس طرح نقل کیے گئے ہیں:

قالت هند انت قتلتم يوم بدر بنات ہند نے کہا کہ آپ نے ان کو بدر کے دن قتل کر دیا و هم ابصو۔

اس لیے آپ جانیں اور وہ جانیں۔

ربيناهم صغاراً فقتلتموهم كباراً ہم نے چھوٹے پر انھیں پالا اور بڑے پر آپ نے انھیں قتل کر دیا۔

تقتل آباءهم وتوصينا بار اولاد هم آپ خود تو ان کے باپوں کو قتل کرتے ہیں اور ہم کو ان کی اولاد کے بارہ میں نصیحت کر رہے ہیں۔

ہند نے اس سے پہلے بھی بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تھی۔ مذکورہ واقعہ میں تو اس نے رو در رو توہین رسالت کا ارتکاب کیا۔ موجودہ زمانہ کے نام نہاد مسلم رہنماؤں نے جو خود ساختہ اسلام وضع کر رکھا ہے، یہی اسلام اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ہوتا تو آپ فوراً ہند کو قتل کرا دیتے۔ مگر آپ نے بیعت لے کر ہند کو اسلام میں داخل کر لیا۔ آج مسلمانوں سے سب سے بڑی چیز جو کھوئی گئی ہے وہ نبی رحمت کا یہی طریقہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1991 All issues

Printed page