عفو و تواضع
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۶
عفو و تواضع
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح عبادت کے وہ طریقے بتائے جن کو اپنا کر آدمی اللہ کی نظر میں پسندیدہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح آپ نے وہ اخلاقی اصول بھی بتائے ہیں جن کو اگر اختیار کر لیا جائے تو انسان دوسرے انسانوں کے درمیان عزت اور سر بلندی کا مقام حاصل کر سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک حدیث یہاں نقل کی جاتی ہے:
وما زاد اللہ عبداً بعفو إلا عزاً، وما اور اللہ تعالی معاف کرنے والے کی صرف عزت تواضع أحد للہ عزوجل إلا رفعہ اللہ تعالیٰ کو بڑھاتا ہے اور جو شخص اللہ کے لیے تواضع اختیار (تفسیر ابن کثیر ۲/ ۱۸۴) کرے اس کو اللہ تعالیٰ صرف اونچا ہی کرتا ہے۔
عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ کوئی شخص برائی کرے اور اس سے بدلہ نہ لیا جائے تو وہ دلیر ہو جائے گا اور پہلے سے زیادہ برائی کرے گا۔ مگر حدیثِ رسول اس کے برعکس یہ بتاتی ہے کہ جو شخص برائی کرنے والے کو معاف کر دے تو اس کے بعد معاف کرنے والے کی عزت میں اور اضافہ ہو جائے گا۔ اسی طرح عام آدمی یہ سمجھتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں کبھی جھکنا نہیں چاہیے۔ اگر جھکے تو لوگ اور زیادہ جھکانے کی کوشش کریں گے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں تواضع کا انداز اختیار کرو۔ اگر تم تواضع کا انداز اختیار کرو گے تو اللہ تعالی کی مدد سے تم کو اور زیادہ سر بلندی حاصل ہوگی۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ عفو اور تواضع کا طریقہ فطرت کو اپیل کرتا ہے۔ اس کے اندر انسان کو مسخر کرنے کی طاقت ہے ۔ وہ انسان کو اندر سے زیر کر دینے والا ہے۔ جو شخص عفو اور تواضع کا طریقہ اختیار کرے اس نے گویا اس فطرت کو مخاطب بنایا جو ہر آدمی کے اندر اس کے خالق نے رکھ دی ہے۔ جو عین اپنی سرشت کے مطابق حق کے آگے جھکنے اور صاحب حق کا اعتراف کرنے کا مزاج رکھتی ہے۔ فطرت فریق ثانی کے اندر آپ کا نمائندہ ہے۔ جب آپ عفو اور تواضع کا طریقہ اختیار کرتے ہیں تو اپنے اس نمائندہ کو آپ اپنی حمایت میں کھڑا کر لیتے ہیں ۔ اور اس سے زیادہ طاقت ور حمایت کیا ہو سکتی ہے کہ خود فریق ثانی کے اندر آپ کا ایک حامی کھڑا ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues