Al-Risala · December 1991 · page 7

اپنے خلاف

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۷

اپنے خلاف

غفار، اسلم، جہینہ، مزینہ، خزاعہ، قدیم عرب کے قبائل تھے۔ وہ سماجی اور معاشی اعتبار سے کمتر سمجھے جاتے تھے۔ ان کا ذریعہ حیات زیادہ تر جانوروں کو چرانا اور ان کی پرورش کرنا تھا۔ ان قبائل کے کچھ افراد مکی دور میں ایمان لائے تو قریش کے معزز لوگوں نے کہا:

لوكان ماجاءبہ محمد خیراً ما سبقتنا محمد جو کچھ لائے ہیں، وہ اگر خیر ہوتا تو اس کو قبول کرنے الیہ رعاة البقم اذ نحن اعزمنهم میں جانوروں کو چرانے والے ہم سے آگے نہ رہتے جب (الجامع لاحکام القرآن، ۱۹۰/۱۶) که ہم ان سے زیادہ باعزت ہیں۔

مکہ میں جن لوگوں نے آپ کو مانا اور آپ کے ساتھی بن گئے، ان میں ایک تعداد غلاموں کی تھی۔ مثلاً بلال ، عمار، صہیب، خباب ، وغیرہ۔ ان کے سلسلہ میں بھی قریش کا کہنا یہی تھا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مکہ کے انکار کرنے والے ایمان لانے والوں کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر یہ کوئی اچھی چیز ہوتی تو وہ اس کو قبول کرنے میں ہم پر سبقت نہ لے جاتے (الاحقاف ا)

یہ بات درست ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں میں معمولی حیثیت کے لوگ بھی شامل تھے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی واقعہ ہے کہ آپ کے ساتھیوں میں وہ لوگ بھی تھے جو اونچی حیثیت کے مالک تھے۔ مثلاً ابو بکر بن ابی قحافہ ، عثمان بن عفان، وغیرہ۔ مگر آپ کے مخالفین یہ کرتے کہ وہ پہلی قسم کے لوگوں کا ذکر کرکے آپ کے کام کی تحقیر کرتے۔ وہ دوسری قسم کے لوگوں کا ذکر نہیں کرتے تھے۔ آدمی کو جب کسی سے ضد ہو جاتی ہے تو وہ یہی طریقہ اپناتا ہے۔ وہ اس کے بارہ میں یک رخا انداز اختیار کرتا ہے ۔ وہ اپنے مزعومہ حریف کے اچھے پہلوؤں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ وہ اس کے صرف ان پہلوؤں کا ذکر کرتا ہے جس میں اسے اپنے حریف کی تحقیر کا موقع مل رہا ہو ۔ جو لوگ یہ طریقہ اختیار کریں، وہ دوسرے کے بارے میں کچھ ثابت نہیں کرتے۔ البتہ خود اپنے بارہ میں ضرور یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ راہ راست پر نہیں ہیں۔ کیوں کہ جو آدمی راہ راست پر ہو اس کا طریقہ عدل وانصاف کا طریقہ ہوتا ہے نہ کہ ظلم اور تعصب کا طریقہ ۔

آدمی سب سے زیادہ اس وقت پہچانا جاتا ہے جب کہ اس کو کسی سے اختلاف پیدا ہو جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues

Printed page