براگمان کرنا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۱۳
براگمان کرنا
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک اللہ نے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون اور اس کی آبرو کو حرام کر دیا ہے اور یہ بھی حرام کیا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے بارہ میں براگمان کرے ( ان الله حَرَّمَ من المسلم دمه و عرضه وان يظنّ به ظنّ السوء، تفسیر قرطبی) اس قسم کی ہدایات کا نتیجہ یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب گمان قائم کرنے کے بارہ میں بے حد حساس تھے۔ وہ اس معاملہ میں آخری حد تک احتیاط برتتے تھے کہ کسی کے بارہ میں غلط گمان اپنے ذہن میں قائم کر لیں۔ حسن بصری تابعی نے بعد کے لوگوں سے کہا کہ پہلے ہم ایسے زمانہ میں تھے کہ بدگمانی کو حرام سمجھا جاتا تھا۔ اور آج بدگمانی اتنی ہلکی چیز بن گئی ہے کہ تم کسی کے بارے میں جو غلط رائے چاہو قائم کر لو (كُنَّا فِي زمن الظن بالناس فيه حرام وانت اليوم في زمن ظن في الناس ما شئت )
بدگمانی اکثر اس طرح پیدا ہوتی ہے کہ ایک واقعہ کو غلط رنگ دیدیا جاتا ہے۔ ایک بار حضرت سلمان فارسی اور ان کے دو ساتھیوں کو کھانے کی ضرورت پیش آئی۔ ان کے پاس کھانے کے لیے کچھ موجود نہ تھا۔ حضرت سلمان فارسی حضرت اسامہ کے پاس گیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خازن تھے۔ حضرت سلمان نے ان سے کھانا طلب کیا۔ مگر اتفاق سے اس وقت سب کھانا ختم ہو چکا تھا۔ چنانچہ وہ کوئی کھانے کی چیز انھیں نہ دے سکے۔ حضرت سلمان جب اپنے دونوں ساتھیوں کی طرف لوٹے اور ان کو قصہ بتایا تو دونوں نے کہا کہ اُسامہ کے پاس کھانا موجود تھا مگر انھوں نے بخل سے کام لیا ( فقد كان عنده لكنه بخل)
مذکورہ دونوں افراد اگر حضرت اسامہ کے انکاری جواب کو عذر پر محمول کرتے تو وہ بدگمانی میں نہ نہ پڑتے۔ مگر انھوں نے ان کے جواب کو بخل سمجھا اس لیے وہ ایک صالح انسان کے بارہ میں بدگمانی میں پڑ گیے۔ اس طرح کی بدگمانی اسلام میں سراسر حرام ہے۔ آدمی پر لازم ہے کہ اپنی طرح کے معاملات میں وہ اپنے بھائی کے بارہ میں اچھی رائے قائم کرے ورنہ خاموش رہے۔ اس کے سوا کوئی تیسرا رویہ اس کے لیے درست نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues