تکمیل ایمان
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۱۴
تکمیل ایمان
عن ابی امامۃ ، قال قال رسول الله صلی اللہ ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ علیہ وسلم : من احب لله و ابغض لله وسلم نے فرمایا۔ جس شخص نے اللہ کے لیے محبت کی اور وأعطى لله ومنع لله فقد استكمل اللہ کے لیے دشمنی کی اور اللہ کے لیے دیا اور اللہ کے الایمان ( رواه ابوداؤد) لیے روکا تو اس نے اپنے ایمان کو کامل کر لیا۔
آدمی کلمہ کے الفاظ ادا کر کے ایمان کے دائرہ میں داخل ہو جاتا ہے۔ مگر اس کا ایمان اللہ کی نظر میں اس وقت مکمل ہوتا ہے جب اس کے اندر مذکورہ خصوصیات پیدا ہو جائیں۔
آدمی کے ایمان کی تکمیل یہ ہے کہ اس کی پوری شخصیت اس ایمان میں ڈھل جائے جس کا اس نے اپنی زبان سے اقرار کیا ہے۔ ایمان کے بعد اس کی حالت یہ ہو جائے کہ اس کے جذبات کا مرکز و محور ایک اللہ کی ذات بن جائے۔ وہ کسی کو چاہے تو خدا کے لیے چاہے کسی کو نہ چاہے تو خدا کے لیے نہ چاہے۔ کسی کو کچھ دے تو خدا کے لیے دے اور کسی کو دینے سے رکے تو اس لیے رکے کہ خدا نے اس کو دینے سے منع کیا ہے۔
دنیا میں آدمی کی پوری زندگی انہی چیزوں کے تحت گزرتی ہے۔ وہ کسی سے محبت کرتا ہے اور کسی سے نفرت، وہ اپنا اثاثہ کسی کو دیتا ہے اور کسی کو دینے پر راضی نہیں ہوتا۔ یہ محبت اور نفرت اور یہ دینا اور نہ دینا اگر اپنی ذاتی پسند کے تابع ہو تو وہ غیر مومنانہ روش ہے اور اگر وہ خدا کی مرضی کے تابع ہو تو اسی کا نام مومنانہ روش ہے۔
اس معاملہ میں کوئی شخص جتنا زیادہ اپنے رویہ کو خدا کے ماتحت کرے گا اتنا ہی زیادہ وہ کامل ہوتا چلا جائے گا اور جتنا زیادہ اس معاملہ میں وہ کمی کرے گا اتنا ہی زیادہ وہ خدا کے نزدیک ناقص قرار دیا جائے گا۔
آدمی اس دنیا میں اپنے تمام معاملات محبت اور نفرت کے جذبہ کے تحت کرتا ہے۔ یہ انسان کی فطرت ہے۔ اس محبت اور نفرت کا اللہ کی مرضی کے تابع ہونا مومنانہ روش ہے، اور اس محبت اور نفرت کا ذاتی خواہش کے تابع ہونا غیر مومنانہ روش۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues