نصیحت لقمان
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۱، صفحہ ۱۶
نصیحت لقمان
قرآن کی سورہ نمبر ۳۱ کا نام لقمان ہے۔ اس سورہ میں لقمان حکیم کا ذکر ہے اور ان کی وہ نصیحت نقل کی گئی ہے جو انھوں نے غالباً اپنی آخر عمر میں اپنے بیٹے کو کی تھی۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے : اور ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی کہ اللہ کا شکر کرو، اور جو آدمی اللہ کا شکر کرے تو وہ اپنے ہی لئے شکر کرتا ہے۔ اور جو آدمی ناشکری کرے تو اللہ بے نیاز ہے، خوبیوں والا ہے۔ اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اے میرے بیٹے، اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھہرانا، بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔
اور ہم نے انسان کو اس کی ماں اور باپ کے معاملہ میں تاکید کی۔ اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اس کو پیٹ میں رکھا، اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوا، کہ تو میرا شکر کر اور اپنے والدین کا۔ میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرائے جو تجھ کو معلوم نبیں تو تم ان کی بات کو نہ ماننا۔ اور دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرنا۔ اور تم اس آدمی کے راستہ کی پیروی کرنا جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔ پھر تم سب کو میرے پاس آنا ہے۔ پھر میں تم کو بتا دوں گا جو کچھ تم کرتے رہے۔
لقمان نے کہا کہ اے میرے بیٹے، کوئی عمل اگر رائی کے دانے کے برابر ہو، پھر وہ کسی پتھر کے اندر ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں ہو، اللہ اس کو حاضر کر دے گا۔ بے شک اللہ باریک ہیں ہے، باخبر ہے۔ اے میرے بیٹے، نماز قائم کرو، اچھے کام کی نصیحت کرو اور برائی سے روکو اور جو مصیبت تم کو پہنچے اس پر صبر کرو۔ بے شک یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ اور لوگوں سے بے رخی نہ کر، اور زمین میں اکڑ کر نہ چل بے شک اللہ کسی اکڑنے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز کو پست کر، بے شک سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے (لقمان ۱۲ - ۱۹)
حضرت لقمان کی شخصیت کی تاریخی تفصیلات معلوم نہیں ہیں۔ مفسرین کا عام خیال یہ ہے کہ وہ پیغمبر نہیں تھے۔ البتہ ایک صالح اور حکیم انسان تھے۔ ایک رائے کے مطابق، وہ سیاہ نام حبشی تھے اور ان کا زمانہ حضرت داؤد علیہ السلام کا زمانہ تھا۔ اس سے قیاس ہوتا ہے کہ وہ پیغمبر پر ایمان لائے ہوئے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1991 All issues